خیبرپختونخوا میں بطخوں اور دیگر آبی پرندوں کے شکار کا سیزن 31 دسمبر 2026 تک مقرر کردیا گیا ہے، تاہم شکار صرف جمعہ، ہفتہ اور اتوار کے روز کیا جاسکے گا۔
اعلامیے کے مطابق شکار کے لیے سمال گیم شوٹنگ لائسنس کی سالانہ فیس 5 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ خصوصی پرمٹ صرف درست شوٹنگ لائسنس رکھنے والے افراد کو جاری کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کا 27 ستمبر لانگ مارچ، سی سی پی او کی پولیس اہلکاروں کیلئے اہم ہدایات جاری
ہر بندوق سے روزانہ زیادہ سے زیادہ پانچ بطخوں کے شکار کی اجازت ہوگی، جبکہ طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب کے بعد شکار پر پابندی ہوگی۔ بطخوں کے شکار کے لیے الیکٹرانک آلات کا استعمال بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق خیبرپختونخوا میں 53 آبی علاقوں کو واٹر فاؤل کے شکار کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ورسک، مہمند اور دیگر ڈیمز سمیت متعدد آبی مقامات کے علاوہ چترال، سوات، کوہستان اور جنوبی اضلاع کے متعدد علاقے بھی شکار کے لیے بند رہیں گے۔
وائلڈ لائف عملہ آبی پرندوں کی آبادی کی نگرانی کرے گا اور پرندوں کی آبادی متاثر ہونے کی صورت میں شکار روک دیا جائے گا۔
ممنوعہ آبی علاقوں میں شکار کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی، جبکہ شکار کے دوران خیبرپختونخوا وائلڈ لائف ایکٹ کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔
