ایمان ظاہر شاہ 

 

اکثر جب ٹیچر کلاس میں پوچھتی تھیں کہ تم بڑی ہو کر کیا بنو گی تو جوش و جذبے سے میرا جواب ہوتا تھا کہ میں صحافی بنوں گی۔ میری زیادہ تر سہیلیاں اس جواب پر ہنستی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے والد سخت مزاج ہیں اور خاندان میں آج تک کسی نے صحافت کے شعبے میں قدم نہیں رکھا، اس لیے مجھے ایسے خواب نہیں دیکھنے چاہییں جو پورے نہ ہو سکیں۔

 

لیکن میرا جواب ہمیشہ ایک ہی ہوتا تھا کہ مجھے اپنی کہانی خود لکھنی ہے۔ میرا یقین تھا کہ جو شخص اپنی منزل کے لیے پُرعزم ہو، وہ مشکلات کا سامنا کرکے بھی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔

 

بارہویں جماعت کے امتحانات کے بعد جب میں نے گھر میں صحافت کے شعبے میں داخلہ لینے کی خواہش ظاہر کی تو والد صاحب نے کہا کہ ہمارے خاندان میں آج تک کوئی اس شعبے میں نہیں گیا، اس لیے تم بھی کوئی ایسا مضمون منتخب کرو جس میں تمہیں اور ہمیں آسانی ہو۔ ان کی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر یا ٹیچر بنوں، لیکن میں اپنے فیصلے پر قائم رہی اور کئی لوگوں کی ناراضی کے باوجود صحافت میں داخلہ لے لیا۔

اس فیصلے کے بعد میرے کئی رشتے دار مجھ سے ناراض ہوگئے۔ ان کے خیال میں صحافت لڑکیوں کے لیے باعزت اور باوقار شعبہ نہیں تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میرا پہلا انٹرویو شائع ہوا تو خاندان کے کچھ مردوں نے مجھے اپنی کزن کہنے سے بھی انکار کر دیا۔ ان کا اعتراض تھا کہ میں غیر مردوں سے باتیں کرتی ہوں اور خاندان کی بدنامی کا سبب بن رہی ہوں۔

 

میں نے اپنے کردار پر اٹھنے والے سوالات سنے، تنقید برداشت کی اور ایسے مشورے بھی ملے کہ یہ شعبہ چھوڑ دوں، کیونکہ آگے بہت مشکلات پیش آئیں گی۔ میری والدہ سے بھی کئی لوگوں نے کہا کہ  بیٹی کو سنبھال لیں، ورنہ وہ ہاتھ سے نکل جائے گی۔ کسی نے کہا کہ اس شعبے میں کوئی خاص مستقبل نہیں۔

 

لیکن میں نے ان باتوں کو اپنے خوابوں کے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ میرا ضمیر مطمئن تھا کہ میں کوئی غلط کام نہیں کر رہی۔ میں جانتی تھی کہ لوگوں کی باتیں میرا مستقبل نہیں بنائیں گی، بلکہ میری ہمت، محنت اور اپنے آپ پر یقین ہی میری پہچان بنیں گے۔

آج حالات بدل چکے ہیں۔ میرے والد کو مجھ پر فخر ہے اور انہیں بھی احساس ہے کہ ان کی بیٹی نے اپنے خواب کے لیے جو راستہ چنا، وہ غلط نہیں تھا۔

 

میرا ماننا ہے کہ اگر آپ کسی مقصد کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں تو محنت اور خود پر یقین کو کبھی کمزور نہ پڑنے دیں۔ راستے میں مشکلات ضرور آئیں گی، لوگ سوال بھی اٹھائیں گے، لیکن دوسروں کی باتوں سے زیادہ اپنی صلاحیتوں اور محنت پر بھروسا رکھیں، کیونکہ جب یقین مضبوط ہو تو منزل تک پہنچنے کے راستے بھی نکل آتے ہیں۔