پشاور: تھانہ خزانہ پولیس نے کمسن بچی کی گمشدگی اور قتل کا معمہ 24 گھنٹوں کے اندر حل کرتے ہوئے اس کی لاش برآمد کرلی، جبکہ قتل میں مبینہ طور پر ملوث خاتون کو گرفتار کرلیا گیا۔

 

پولیس کے مطابق 6 نومبر 2026 کو خان بابا گڑھی کی رہائشی تقریباً 6 سے 7 سالہ حلیمہ دختر انعام اللہ کی گمشدگی کی رپورٹ اس کے چچا بلال الدین ولد اکرام الدین نے تھانہ خزانہ میں درج کرائی تھی۔

 

واقعے کی سنگینی کے پیش نظر سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے بچی کی فوری بازیابی اور واقعے میں ملوث عناصر کا سراغ لگانے کے احکامات جاری کیے۔ اس سلسلے میں ایس پی رورل ڈویژن صابر گل خان کی نگرانی میں ڈی ایس پی خزانہ سرکل احسان اللہ مروت، ایس ایچ او تھانہ خزانہ قاضی اکمل خان اور تفتیشی افسر امتیاز خان پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

 

پولیس ٹیموں نے جدید سائنسی طریقوں اور انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کی، جس کے نتیجے میں 24 گھنٹوں کے اندر بچی کی گمشدگی کے مقدمے کا سراغ لگا کر اس کی لاش برآمد کرلی گئی۔

 

کارروائی کے دوران لیڈیز پولیس کی مدد سے قتل میں مبینہ طور پر ملوث خاتون (ک) دختر نظام الدین، سکنہ خان بابا گڑھی کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار خاتون مقتولہ کے والد کی چچا زاد ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمہ نے بچی کی والدہ کے ساتھ مبینہ گھریلو تنازع اور آئے روز کے لڑائی جھگڑوں کی رنجش پر بچی کو پھانسی دے کر قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ ملزمہ کو مزید تفتیش کے لیے وومن پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ہے۔

 

دوسری جانب سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے مختصر وقت میں قتل کا سراغ لگانے اور ملزمہ کی گرفتاری پر پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اہلکاروں کے لیے نقد انعام اور توصیفی اسناد دینے کا اعلان کیا۔