خیبرپختونخوا کابینہ نے ذیلی کمیٹی کی مرتب کردہ رپورٹ کی روشنی میں خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 مزید تجاویز کے ساتھ منظور کرلیا۔

 

وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبائی کابینہ کے 59ویں اجلاس کے دوران خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کابینہ کو پیش کی گئی۔

 

ان کے مطابق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ خیبرپختونخوا پولیس حکام کی مشاورت سے تیار کی گئی تھی، جس کی روشنی میں خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کو مزید تجاویز کے ساتھ کابینہ نے منظور کیا۔اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز اور انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس نے شرکت کی۔

 

یہ بھی پڑھیے: ٹی20 بولنگ رینکنگ میں بڑی تبدیلی، ابرار احمد نے کون سی پوزیشن حاصل کرلی؟

 

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ آج خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹ دیا جائے گا اور تمام راستے خیبرپختونخوا کے لیے بند کر دیے جائیں گے۔

 

ان کے مطابق باقی پاکستان کھلا ہوگا لیکن صرف خیبرپختونخوا سے نہ کوئی جا پائے گا نہ آ پائے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے اور تمام راستے بند کرنے کا کیا مطلب لیا جائے؟ سہیل آفریدی نے سوال کیا کہ کیا کوئی سازش ہو رہی ہے، کیا مشرقی پاکستان جیسا سانحہ ریپیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

 

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی سازش ہو رہی ہے اور اس کے پیچھے جو بھی لوگ ہیں انہیں واضح پیغام ہے، پاکستان ہمارا ہے۔ جو بھی پاکستان کو تقسیم کرنے یا خیبرپختونخوا کو پاکستان سے جدا کرنے کی سازش کرے گا اسے ہمارا واضح پیغام ہے کہ ہم پاکستانی تھے، ہم پاکستانی ہیں اور ان شاء اللہ پاکستانی رہیں گے۔

 

وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ تین چار دنوں سے سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد ان کے کارکنوں، تنظیمی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ان کے مطابق مواصلات و تعمیرات کے وزیر شکیل خان پر قاتلانہ حملہ اور انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی مگر ناکام رہے، جبکہ کل وزیر آبپاشی ریاض خان کے گھر پر بھی سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد پہنچے۔

 

سہیل آفریدی کے مطابق ڈی آئی خان اور دیگر اضلاع میں بھی ان کے کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ یہی سلوک کیا جا رہا ہے۔ مردان میں ایم این اے فضل خان کو اغوا کیا گیا، فخر جہان کے گھر پر بھی نامعلوم افراد نے دھاوا بولا، ہمارے منتخب نمائندے اور وزراء نشانے پر ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر صوبائی کابینہ کے وزراء بھی ان غنڈا گردوں سے محفوظ نہیں تو باقی پاکستان کا کیا حال ہوگا؟

 

وزیراعلیٰ کے مطابق یہ لوگ عوامی طاقت سے ڈرے ہوئے ہیں، کوئی عقل رکھنے والا شخص اس طرح کے اقدامات نہیں کرتا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے صوبائی کابینہ ارکان کے ساتھ ایسے سلوک کو ناقابل قبول قرار دیا۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ کچھ دن پہلے رانا ثناء اللہ کی طرف سے خیبرپختونخوا والوں کو دہشت گرد قرار دینے کے بیانات سامنے آئے، جبکہ مریم صفدر کا یہ کہنا کہ انہیں بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ پاکستان کے باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے، انتہائی تشویشناک بیان ہے۔

 

وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈا گرد ان کے بیوروکریسی، پولیس، ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو ڈرا اور دھمکا رہے ہیں۔ بیوروکریسی، پولیس، ڈی سیز اور ڈی پی اوز کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے ڈرنا نہیں ہے۔ اگر صوبائی حکومت آپ سے کوئی غلط کام نہیں کروا رہی تو کسی ادارے یا محکمے کے غلط احکامات نہ مانیں۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ کسی کے باپ کا پاکستان نہیں، یہ ہم سب کا پاکستان ہے، احتجاج کرنا ہر بندے کا آئینی اور قانونی حق ہے۔

ان کے مطابق کہیں بھی ہماری شنوائی نہیں ہو رہی، ہمیں نہیں سنا جا رہا۔ ایسی صورت میں آئین ہمیں پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے اور ہم یہ احتجاج ہر صورت کریں گے۔

 

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ جب تک آئین میں پرامن احتجاج کا حق موجود ہے ہم پرامن احتجاج کرتے رہیں گے۔

خیبرپختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کو پیغام دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ گھبرانا نہیں، ڈرنا نہیں، جو جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا ڈرپوک ہوتا ہے۔

 

انہوں نے زور دیا کہ اپنے حق اور حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہونا ہے، پرامن جدوجہد جاری رکھنی ہے، ان شاء اللہ بہت جلد ظلم کا دور ختم ہوگا۔