گزشتہ نو سال سے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہ کیے جانے کے خلاف خیبر پختونخوا کے ڈاکٹروں کی مشترکہ تنظیم نیوٹرل ہاؤس آفیسرز اینڈ ٹریننگ میڈیکل آفیسرز فورم نے جمعرات سے صوبے بھر کے ہسپتالوں میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
نیوٹرل ڈاکٹرز فورم کے چیئرمین ڈاکٹر عدنان آفریدی نے فورم کے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ بدھ کے روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کی گزشتہ 17 روز سے جاری ہڑتال جمعرات سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوگی، جس کے دوران ہسپتالوں میں صرف ایمرجنسی کور فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک صوبائی حکومت ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں دو درجن سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں: اسحاق ڈار
ڈاکٹر عدنان آفریدی کے مطابق پورے صوبے میں تقریباً 6 ہزار ڈاکٹر گزشتہ 17 روز سے ہڑتال پر ہیں۔ اس دوران ایمرجنسی اور او پی ڈی میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ہڑتال کے باعث ایمرجنسی اور او پی ڈی میں ڈاکٹروں کی تعداد بھی بڑھائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافے اور جاری ہڑتال کے حوالے سے تاحال کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق فورم نے محکمہ صحت سے رابطہ کیا تو انہیں کہا گیا کہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
ڈاکٹر عدنان آفریدی نے کہا کہ سیکرٹری صحت کی جانب سے ایسے الفاظ ادا کرنا اس تاثر کو جنم دیتا ہے کہ حکومت ہسپتال بند کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی صورتِ حال کے پیش نظر نیوٹرل ڈاکٹرز فورم نے جمعرات سے خیبر پختونخوا کے تمام ہسپتالوں میں قلم چھوڑ ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے، جس کے دوران صرف ایمرجنسی کور فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہاؤس آفیسرز اور میڈیکل آفیسرز سمیت ڈاکٹروں کی پرامن ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کا اعلان نہیں کرتی۔
ڈاکٹر عدنان آفریدی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے جب بھی بجٹ پیش کیا، اس میں ڈاکٹروں کو دیوار سے لگایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تنخواہوں میں عدم اضافے کے باعث اب بہت سے ڈاکٹر غیر ملکی اداروں میں انٹرویوز دے رہے ہیں کیونکہ کئی برسوں سے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا جا رہا اور انہیں خیبر پختونخوا میں اپنا مستقبل تاریک ہوتا نظر آ رہا ہے۔
ڈاکٹر عدنان آفریدی نے کہا کہ یہ وہی ڈاکٹر ہیں جو خیبر پختونخوا میں کورونا وبا کے دوران اپنی جان کی پروا کیے بغیر مریضوں کی خدمت کے لیے موجود رہے۔ سیلاب کے دوران بھی انہی ڈاکٹروں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر پرخطر علاقوں میں جا کر لوگوں کو طبی خدمات فراہم کیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کوہاٹ میں خودکش بم دھماکے کے بعد ڈاکٹروں نے اپنی ہڑتال عارضی طور پر معطل کرکے زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی، لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت ان ڈاکٹروں کو کوئی توجہ نہیں دے رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ الٹا ڈاکٹروں کو محکمہ صحت کے دفتر میں دھتکارا اور ان کی توہین کی جا رہی ہے، جو ڈاکٹروں کی توہین ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیوٹرل ڈاکٹرز فورم قلم چھوڑ ہڑتال کے سلسلے میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں مرکزی احتجاجی مظاہرہ کرے گا۔
ڈاکٹر عدنان آفریدی نے کہا کہ 2017 کے بعد ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا اور مہنگائی کی چکی میں سفید پوش ڈاکٹر طبقہ اسی طرح پس رہا ہے، لیکن پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اپنی شاہ خرچیوں سے فرصت حاصل کرے تو اس جانب بھی توجہ دے۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی ڈاکٹروں نے اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت سے بات کی تو آگے سے یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ بجٹ میں ڈاکٹروں کے لیے فنڈز نہیں ہیں۔
ان کے مطابق بجٹ میں ڈاکٹروں کے لیے فنڈز موجود ہوتے ہیں کیونکہ جب بھی بجٹ کا اعلان ہوتا ہے، اس سے پہلے ڈاکٹروں کے ساتھ مذاکرات کیے جاتے ہیں اور انہیں کہا جاتا ہے کہ اس بجٹ میں ان کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا جائے گا، لیکن جیسے ہی صوبائی بجٹ اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے تو اس میں ڈاکٹروں کی تنخواہوں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہر موقع پر ڈاکٹروں کو دیوار سے لگا دیتی ہے۔
ڈاکٹر عدنان آفریدی نے کہا کہ جمعرات سے پورے صوبے میں صوبائی حکومت کے رویے اور تنخواہوں میں عدم اضافے کے خلاف احتجاج کا اگلا مرحلہ شروع ہوگا اور یہ ہڑتال ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کے نوٹیفکیشن کے بعد ہی ختم ہوگی۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر کسی بھی ڈاکٹر کے خلاف ہڑتال کی وجہ سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا یا انہیں دھمکی دی گئی تو اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
