پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان سے ہو رہی ہے، طالبان دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی روکیں۔

 

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے ہو رہی ہے۔ انہوں نے طالبان سے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کرنے اور افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

او آئی سی رابطہ گروپ برائے افغانستان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال خطے کے امن و سلامتی پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں دو درجن سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: آواز کے بغیر بھی گفتگو: سائن لینگویج کے بارے میں ہم کیا نہیں جانتے؟

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دے رہا ہے، جبکہ کوہاٹ مسجد حملے میں 24 افراد جان سے گئے۔ طالبان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے اور اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔

 

اسحاق ڈار کے مطابق اگست 2021 افغانستان کے لیے ایک اہم موڑ تھا اور پاکستان نے افغان عوام کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ پاکستان نے دسمبر 2021 میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کی میزبانی بھی کی، اس امید کے ساتھ کہ طالبان دہشت گردی کے خاتمے اور سیاسی شمولیت کے حوالے سے مؤثر اقدامات کریں گے۔

 

انہوں نے طالبان پر زور دیا کہ انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کی جائے، جبکہ تمام نسلی و مذہبی گروہوں کو سیاسی عمل میں شامل کیا جائے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ افغان عوام پہلے ہی طویل جنگ اور تنازعات کے باعث مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں، اس لیے افغان شہریوں کی وطن واپسی اور دوبارہ آبادکاری میں سہولت فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

 

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کا خواہاں ہے، کیونکہ افغان بدامنی کے اثرات سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق مستحکم اور خوشحال افغانستان کے قیام کے لیے باہمی احترام اور طالبان کی جانب سے سیاسی عزم ضروری ہے۔