23 ستمبر کو دنیا بھر میں سائن لینگویجز کا عالمی دن (International Day of Sign Languages) منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک زبان کے بارے میں جاننے کا موقع نہیں بلکہ ہمیں یہ یاد دلانے کا بھی موقع دیتا ہے کہ ہماری دنیا میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو سننے یا بولنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ان کے خواب، صلاحیتیں، جذبات یا ذہانت کم ہیں۔

 

 

ہم میں سے اکثر لوگ آواز کے ذریعے ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں، لیکن جو لوگ سن نہیں سکتے یا بولنے میں دشواری رکھتے ہیں، ان کے لیے ہاتھوں کے اشارے، چہرے کے تاثرات اور جسم کی حرکات ایک مکمل زبان بن جاتے ہیں۔ اسے سائن لینگویج کہا جاتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر فضل شکور خان کے مبینہ اغوا پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت، عدالت کے اہم سوالات

 

 یہ صرف چند اشاروں کا نام نہیں بلکہ اپنے اصول، الفاظ اور اظہار کے انداز رکھنے والی ایک مکمل زبان ہے۔

 

مختلف زبان، یکساں احساسات

 

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سائن لینگویج کے بارے میں اب بھی بہت کم آگاہی ہے۔ اگر کوئی شخص اشاروں کی زبان میں بات کر رہا ہو تو بعض لوگ اسے حیرت سے دیکھتے ہیں، کچھ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور کچھ اس کی نقل کرنے لگتے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر کوئی شخص ہماری زبان نہ سمجھ سکے تو کیا ہم اس کا مذاق اڑائیں گے؟ یقیناً نہیں۔

 

 

پھر کسی ایسے شخص کا مذاق کیوں بنایا جائے جو اپنے انداز میں بات کر رہا ہے؟

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سائن لینگویج استعمال کرنے والا شخص ہم سے مختلف ضرور ہو سکتا ہے، لیکن وہ ہم سے کم نہیں۔ اسے بھی عزت، دوستی، تعلیم، روزگار اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے۔

 

صلاحیتوں کو موقع ملے تو خواب حقیقت بنتے ہیں

 

سب سے اہم مسئلہ تعلیم کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے بچے موجود ہیں جنہیں صرف اس وجہ سے اسکول نہیں بھیجا جاتا کہ وہ سن نہیں سکتے یا عام طریقے سے بول نہیں سکتے۔ بعض والدین یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کا بچہ شاید کچھ نہیں کر سکے گا۔ اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

 

 

اگر ایسے بچوں کو مناسب تعلیمی ماحول، سائن لینگویج، تربیت یافتہ اساتذہ اور ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں تو وہ بھی بہترین تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ خصوصی تعلیم کے ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایسے اسکول بھی ہونے چاہئیں جہاں مختلف صلاحیتوں کے حامل بچے ایک دوسرے کے ساتھ پڑھ سکیں اور معاشرے میں برابری کا احساس پیدا ہو۔

 

ایک بچہ اگر آج سائن لینگویج میں بات کر رہا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ کل صرف ایک طالب علم ہو۔ وہ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، آرٹسٹ، ڈیزائنر، کاروباری شخص، پروگرامر یا کسی بھی دوسرے شعبے کا ماہر بن سکتا ہے۔

 

رابطے کی رکاوٹیں کیسے کم ہوں؟

 

اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ سائن لینگویج صرف ان لوگوں تک محدود نہ رہے جو اسے استعمال کرتے ہیں۔ اگر عام لوگ بھی سائن لینگویج کے بنیادی الفاظ اور جملے سیکھنا شروع کر دیں تو معاشرے میں رابطے کی بہت سی رکاوٹیں ختم ہو سکتی ہیں۔

 

 

اسکولوں میں سائن لینگویج کی بنیادی تعلیم دی جا سکتی ہے۔ سرکاری دفاتر، اسپتالوں، بینکوں اور دیگر عوامی مقامات پر سائن لینگویج کی سہولت موجود ہونی چاہیے۔

 

 ٹی وی پروگرامز، خبروں اور اہم عوامی پیغامات میں بھی سائن لینگویج اور کیپشنز کا استعمال بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ چھوٹے اقدامات کسی ایک شخص کی پوری زندگی آسان بنا سکتے ہیں۔

 

گھر کی چار دیواری سے باہر ایک برابر دنیا

 

اکثر خاندان کسی ایسے بچے یا فرد کو باہر لے جانے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ کبھی انہیں تقریبات میں نہیں لے جایا جاتا، کبھی دوستوں سے دور رکھا جاتا ہے اور کبھی اسکول بھی نہیں بھیجا جاتا۔ لیکن کسی بچے کو دنیا سے دور رکھنا اس کی حفاظت نہیں بلکہ اس کے مواقع کم کرنا ہے۔

 

 

ان بچوں کو بھی پارک جانا ہے، دوست بنانے ہیں، کھیلنا ہے، پڑھنا ہے، مقابلوں میں حصہ لینا ہے اور اپنے خواب پورے کرنے ہیں۔ ہمیں ان کے لیے راستے کھولنے چاہئیں، دیواریں نہیں بنانی چاہئیں۔

 

ایک اشارہ، ایک موقع، ایک روشن مستقبل

 

سائن لینگویج کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ رابطہ صرف آواز سے نہیں ہوتا۔ کبھی ہاتھ بولتے ہیں، کبھی آنکھیں اور کبھی چہرے کے تاثرات بہت کچھ کہہ دیتے ہیں۔

 

 

ہمیں ایسے بچوں کو ترس کی نظر سے دیکھنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کو دیکھنا ہوگا۔ انہیں صدقہ یا ہمدردی سے زیادہ موقع، تعلیم، عزت اور برابر کا حق چاہیے۔

 

اگر ہم آج ایک بچے کو اسکول بھیجتے ہیں، ایک خاندان کو آگاہ کرتے ہیں، ایک شخص کا مذاق اڑانے کے بجائے اس کا ساتھ دیتے ہیں اور سائن لینگویج کے چند الفاظ سیکھ لیتے ہیں تو شاید ہم کسی کی زندگی بدلنے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوں۔ خاموشی کو کمزوری سمجھنے کے بجائے اسے ایک مختلف زبان سمجھنے کا وقت آ گیا ہے۔

 

 

23 ستمبر صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص کو سمجھنے اور اپنی بات کہنے کا موقع ملے، وہی حقیقی معنوں میں ترقی کرتا ہے۔ ہاتھوں کی یہ زبان ہمیں ایک بڑا سبق دیتی ہے: الفاظ مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن خواب سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔