پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر فضل شکور خان کے مبینہ اغوا کے خلاف دائر درخواست پر تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

 

درخواست پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

 

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ صوبائی وزیر کو اغوا کرنے والے کون لوگ ہیں؟ پولیس کیا کر رہی ہے؟ عدالت نے پوچھا کہ کیا ایف آئی آر درج کی گئی ہے؟ جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ مقدمہ درج کیا جاچکا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: آن لائن جنسی بلیک میلنگ کا بڑھتا خطرہ، یونیسیف نے والدین اور بچوں کیلئے اہم معلومات جاری کردیں

 

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اگر ایف آئی آر درج کی گئی ہے تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں؟ یا آپ بتائیں کہ صوبائی وزیر کہاں ہیں، ہم وہاں جائیں گے۔

 

وکیل درخواست گزار بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ فضل شکور خان صوبائی وزیر ہیں اور 2013 سے صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور موٹروے ٹول پلازہ کے قریب سے انہیں دن دہاڑے اغوا کیا گیا۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سادہ کپڑوں میں مسلح افراد نے صوبائی وزیر کی گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کی۔

 

جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ جس جگہ سے صوبائی وزیر کو اغوا کیا گیا، وہاں سڑک کے دوسری جانب پولیس، ایکسائز اور دیگر محکموں کے ناکے موجود ہیں، وہ تماشہ دیکھ رہے تھے۔

 

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جس طرح فائرنگ کی گئی، اس طرح تو فلسطین میں بھی نہیں دیکھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی نے آئی جی پولیس کو طلب کیا تھا لیکن وہ وہاں نہیں آئے۔

 

اس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ یہ تو آپ کی کمزوری ہے۔

 

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلال خان خلیل نے کہا کہ موجودہ واقعات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ صوبائی حکومت درخواست کرے تو پھر اس معاملے کو دیکھا جائے گا۔

 

اے اے جی بلال خان خلیل نے بتایا کہ اس سے قبل 9 مئی کے معاملے میں بھی جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم ہائیکورٹ نے اس پر رضامندی نہیں دی تھی۔ ان کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے چیف جسٹس ہائیکورٹ کی رضامندی ضروری ہے۔

 

عدالت نے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی۔