آن لائن جنسی بلیک میلنگ، جسے سیکسٹورشن بھی کہا جاتا ہے، بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔ یہ مسئلہ ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور موبائل ایپس پر پیش آ رہا ہے جو نوجوان روزمرہ استعمال کرتے ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق سیکسٹورشن کے متاثرین اکثر خوف، شرمندگی اور ذہنی دباؤ کے باعث کسی کو اس بارے میں نہیں بتاتے، جبکہ بعض نوجوانوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ایسی صورت حال میں مدد کے لیے کہاں رابطہ کیا جائے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: پی ٹی آئی ایک قیدی کے لیے عوام کو تکلیف میں نہ ڈالے، عطا اللہ تارڑ

 

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے اس حوالے سے آگاہی اور مدد کے لیے سوشل میڈیا سروس شروع کی ہے۔ یونیسیف کے ماہرین نے جنسی بلیک میلنگ کے خطرات اور اس سے نمٹنے کے طریقوں کی نشاندہی کی ہے۔

 

سیکسٹورشن کیا ہے؟

 

سیکسٹورشن میں مجرم کسی شخص کی جنسی چیٹس، برہنہ تصاویر یا ویڈیوز کو عام کرنے کی دھمکی دے کر اس سے مزید جنسی مواد یا رقم کا مطالبہ کرتا ہے۔

 

سیکسٹنگ اور سیکسٹورشن میں کیا تعلق ہے؟

 

سیکسٹنگ سے مراد برہنہ یا نیم برہنہ تصاویر اور ویڈیوز کا آن لائن تبادلہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک بار کوئی تصویر یا ویڈیو شیئر ہونے کے بعد اسے بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسے واقعات میں مجرم ہمیشہ کوئی اجنبی نہیں ہوتا بلکہ دوست، سابق پارٹنر یا جاننے والا شخص بھی ہو سکتا ہے۔

 

مصنوعی ذہانت کا کیا کردار ہے؟

 

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال نے اس خطرے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ’نیوڈیفائی‘ ایپس اور جنریٹو اے آئی کے ذریعے کسی نوجوان کی حقیقی برہنہ تصویر موجود نہ ہونے کے باوجود جعلی تصاویر تیار کرکے اسے بلیک میل کیا جا سکتا ہے۔

 

نوجوانوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

 

سیکسٹورشن کا شکار نوجوان خوف، شرمندگی، ذہنی دباؤ اور بے چینی کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بعض متاثرین اس قدر شدید ذہنی دباؤ میں آ جاتے ہیں کہ خود کو نقصان پہنچانے یا خودکشی جیسے انتہائی قدم تک اٹھا لیتے ہیں۔

 

والدین کیا کریں؟

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو بچوں سے آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں کھل کر بات کرنی چاہیے اور انہیں یقین دلانا چاہیے کہ اگر وہ کسی مشکل میں پھنس جائیں تو انہیں سزا دینے کے بجائے مدد فراہم کی جائے گی۔

 

کسی واقعے کی صورت میں والدین پولیس، متعلقہ اسکول یا چائلڈ ہیلپ لائن سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ آن لائن موجود تصاویر یا ویڈیوز ہٹانے کے لیے ’Take It Down‘ جیسی مفت سروس بھی دستیاب ہے۔

 

ماہرین کے مطابق بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے بنیادی آگاہی، والدین اور بچوں کے درمیان کھلی بات چیت اور بروقت مدد حاصل کرنا اہم اقدامات ہیں۔