وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 27 ستمبر کو کسی صورت اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تشدد اور مار دھاڑ کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔
پشاور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، صوبے میں گورنر راج نہیں بلکہ عوامی راج کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام تشدد کی سیاست کو مسترد کر چکے ہیں، ایک قیدی کی رہائی کے لیے عوام کو تکلیف میں نہ ڈالا جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی طویل عرصے سے حکومت ہے، تاہم صوبے میں تعلیم، صحت، سیاحت اور دیگر شعبوں میں خاطر خواہ ترقی نظر نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کے بجائے عوامی مسائل کے حل اور گورننس پر توجہ دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: آن لائن جوئے کا معاملہ، پاکستانی کرکٹر محمد رضوان سے تحقیقات شروع
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو عوام نے کسی ایک قیدی کی رہائی کے لیے ووٹ نہیں دیا، اگر صوبائی حکومت اسی مقصد کے لیے اپنی توجہ مرکوز رکھے گی تو صوبہ مزید کئی دہائیاں پیچھے چلا جائے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا میں جنگلات کی کٹائی اور مائننگ کے معاملات میں من پسند افراد کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے جبکہ عوامی وسائل جلسے جلوسوں اور احتجاج کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی وسائل کا استعمال عوام پر ہونا چاہیے اور انہیں جلسے جلوسوں پر خرچ نہیں کیا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام ٹیکسز ادا کر رہے ہیں لیکن انہیں وہ سہولیات نہیں مل رہیں جو صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے جنازوں میں صوبائی حکومت کی قیادت کی عدم موجودگی بھی سوالات اٹھاتی ہے۔
این ایف سی فنڈز کے حوالے سے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزرا اور مشیر اکثر این ایف سی فنڈز کا ذکر کرتے ہیں لیکن عوام کو مکمل حقائق سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔
ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے لیے وفاق نے خیبر پختونخوا حکومت کو این ایف سی کی مد میں ساڑھے 8 سو ارب روپے فراہم کیے ہیں، تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ صوبائی حکومت کے پاس اس رقم کا ریکارڈ موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرانزک کے معاملے میں بھی خیبر پختونخوا کو پنجاب کی مدد لینا پڑ رہی ہے، اس لیے صوبائی حکومت کو اپنی فرانزک اور دیگر ضروری لیبارٹریوں کے قیام پر توجہ دینی چاہیے۔
مذاکرات کے حوالے سے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت مذاکرات کی بات تو کرتی ہے لیکن مرکزی حکومت کس سے بات کرے، ذمہ دار شخص کون ہے، اس بارے میں واضح نہیں۔ ان کے بقول مذاکرات کے لیے کسی ایک بااختیار نمائندے کا تعین ضروری ہے۔
سانحہ کوہاٹ کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ واقعے میں افغانستان کی سرزمین استعمال کی گئی اور اس کا جواب بھی دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ امن و امان برقرار رکھنے کے تناظر میں ہے۔ ان کے مطابق عوام کے حقوق متاثر کرنے اور سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے جلائی گئی ریڈیو پاکستان کی عمارت کی دوبارہ تعمیر مکمل کر دی گئی ہے اور اس میں اسٹوڈیوز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ صحافی ان اسٹوڈیوز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اپنے پوڈکاسٹ بنا سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے اور جہاں صحافیوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا، وفاقی حکومت ان کے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔
