پاکستانی کرکٹر محمد رضوان سے آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق معاملے میں پوچھ گچھ شروع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم دستیاب نوٹس میں کسی مخصوص میچ یا جرم کی نشاندہی نہیں کی گئی۔

 

رپورٹ کے مطابق رضوان نے ماضی میں تقریباً 10 کروڑ روپے کی مبینہ بیٹنگ اسپانسرشپ کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے اپنی کھیلوں کی کِٹ پر ایسے ادارے کا لوگو لگانے سے بھی گریز کیا تھا۔

 

دی نیوز انٹرنیشنل کی سابقہ رپورٹ کے مطابق رضوان اور بابر اعظم نے سرواگیٹ بیٹنگ برانڈز کی جانب سے ملنے والی بھاری مالی پیشکشیں مسترد کی تھیں۔ دونوں کھلاڑیوں کی مینجمنٹ کی جانب سے بھیجے گئے مراسلات میں بیٹنگ سے متعلق کمپنیوں کی تشہیر نہ کرنے کا مؤقف سامنے آیا تھا۔

 

یہ بھی پڑھیے: کوہاٹ بورڈ انٹرمیڈیٹ نتائج کا اعلان، پہلی پوزیشن کرک کی طالبہ نے حاصل کرلی

 

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوران ملتان سلطانز کی قیادت کرتے ہوئے رضوان نے مبینہ طور پر سرواگیٹ بیٹنگ کمپنی کا لوگو اپنی کِٹ پر لگانے سے انکار کیا تھا۔

 

راشد لطیف نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رضوان نے بیٹنگ کمپنی کا لوگو اپنی کِٹ پر ٹیپ سے ڈھانپ دیا تھا اور اسی عمل پر انہیں سزا کا مستحق قرار دیا گیا، جبکہ جن کھلاڑیوں نے لوگو نہیں ڈھانپا، انہیں انعام کا حقدار سمجھا گیا۔ راشد لطیف کے مطابق گیری کرسٹن نے 27 اکتوبر 2024 کو رضوان کو کپتان مقرر کیا تھا، جس پر بورڈ ناراض ہوا اور اگلے ہی روز کرسٹن نے استعفیٰ دے دیا۔

 

موجودہ معاملے میں بتایا گیا ہے کہ 31 اگست 2026 کو لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے اختتام کے بعد رضوان کا موبائل فون تحویل میں لے لیا گیا اور بعد ازاں پاکستان منتقل کیا گیا۔ اس کارروائی کے طریقۂ کار اور قانونی دائرہ اختیار سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

 

تاہم اب تک متعلقہ اداروں کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کرکٹر کے خلاف کارروائی کی بنیاد کیا ہے، جبکہ نوٹس میں کسی مخصوص واقعے یا خلاف ورزی کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں۔

 

یوں ماضی میں بیٹنگ سے وابستہ تجارتی پیشکشیں مسترد کرنے والے رضوان خود آن لائن جوئے سے متعلق ایک معاملے میں سوالات کی زد میں آ گئے ہیں، تاہم حتمی صورتحال تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔