خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے وزراء اور ارکان اسمبلی کی ممکنہ گرفتاریوں کے پیش نظر پارٹی کی مرکزی قیادت نے انہیں روپوش رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت محدود رکھنے کی ہدایت کردی۔

 

ذرائع کے مطابق پارٹی قائدین نے صوبائی وزراء اور ارکان خیبر پختونخوا اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر نقل و حرکت نہ کریں اور زیادہ وقت محفوظ مقامات پر رہیں۔

 

پارٹی قیادت نے وزراء اور ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ زیادہ تعداد میں کارکن رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے، جبکہ سرکاری امور واٹس ایپ کے ذریعے نمٹانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: شادی سے قبل حاملہ ہونے پر ماں نے اپنی بیٹی کو پھانسی دے دی

 

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے اہم رہنما بھی ممکنہ گرفتاریوں کے پیش نظر وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں موجود ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی نے سرکاری گارڈز کے علاوہ نجی سکیورٹی بھی بڑھا دی ہے۔

 

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور کے اغوا کا مقدمہ ان کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ چمکنی میں درج کرلیا گیا ہے۔

 

 

ایف آئی آر کے متن کے مطابق نامعلوم مسلح ملزمان نے صوبائی وزیر فضل شکور کو اغوا کیا، جبکہ واقعے کے دوران ان کی گاڑی پر فائرنگ بھی کی گئی۔

 

ایف آئی آر کے مطابق فضل شکور گزشتہ روز چارسدہ سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پشاور آ رہے تھے کہ انہیں نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا۔مقدمے کے مطابق اغوا کے دوران نامعلوم افراد صوبائی وزیر کے گارڈ سے اسلحہ بھی لے گئے۔