خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز نے دو الگ الگ کارروائیوں میں 10 خارجی دہشتگرد ہلاک کر دیے۔

 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائیاں جنوبی وزیرستان اور ضلع دیر میں کی گئیں۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں خارجی دہشتگردوں نے سکیورٹی چیک پوسٹوں پر حملے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 8 خارجی دہشتگرد ہلاک ہوئے۔

 

یہ بھی پڑھیے: دہشت گردی کے خدشات، خیبرپختونخوا پولیس کے لیے سیکیورٹی ہائی الرٹ جاری

 

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ضلع دیر میں ایک اور کارروائی کے دوران 2 خارجی دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔

 

بیان کے مطابق ہلاک خارجی دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہلاک دہشتگرد مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے اور ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

 

یہ بھی پڑھیے: لکی مروت میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، متعدد دہشتگرد ہلاک

 

واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے اضلاع واشک اور مستونگ میں بھی سکیورٹی فورسز نے دو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے تھے، جن میں 12 خارجی دہشتگرد ہلاک ہوئے تھے۔ 

 

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں 5 اور 6 اگست کو آپریشن ردالفتنہ-3 کے تحت کی گئیں، جن کا مقصد دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی تھا۔

 

 بیان کے مطابق 5 اگست کو ضلع واشک میں انٹیلی جنس اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے 6 خارجی دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جبکہ 6 اگست کو ضلع مستونگ میں ہونے والی کارروائی میں مزید 6 خارجی دہشتگرد مارے گئے۔