وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ پولیس لائنز دہشت گردی کے واقعے کے شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور ان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے حکومتی شہداء پیکیج کے دائرہ کار میں نہ آنے والے شہداء کے خاندانوں کے لیے بھی مالی معاونت کا اعلان کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوہاٹ واقعے میں دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے والے پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور تمام اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑنے والے ہمارے شہداء نے قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں، سعودی عرب سے اہم کردار ادا کرنے کی امید، افغان عبوری حکومت
سہیل آفریدی نے کہا کہ کوہاٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال کو تمام ضروری اور اہم طبی آلات فراہم کیے جائیں گے، جبکہ دھماکے میں متاثر ہونے والی مسجد اور اسپیشل برانچ پولیس اسٹیشن کی تعمیر نو بھی کرائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کوہاٹ میں ایک ہزار بستروں کے ہسپتال کا پہلے ہی اعلان کرچکا ہوں، اسے کم سے کم مدت میں مکمل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے، پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کرنے کے لیے 35 ارب روپے اضافی دیے گئے ہیں، جبکہ مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 190 ارب روپے کردیا گیا ہے۔ پولیس کو مضبوط کیے بغیر صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ارکان صوبائی اسمبلی نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرکے پولیس کے لیے وسائل فراہم کیے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا 2004 سے آج تک 22 سال سے مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ 22 سال سے ایک پالیسی پر عمل ہورہا ہے جو نتائج نہیں دے رہی، اب پالیسی تبدیل کرنے کا وقت آگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دے رہے ہیں لیکن کوئی اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔ وفاقی حکومت کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت اور اداروں کی تمام توجہ پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے اور عمران خان کو جیل میں رکھنے پر مرکوز ہے۔ وفاقی حکومت کی ترجیح سیاسی انتقام ہے، دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کا تحفظ ان کی ترجیح نہیں۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں افغانستان میں بھارت نواز حکومت کے باوجود پاکستان میں امن قائم تھا۔ آج افغانستان میں موجود حکومت کے ساتھ چائے پر ملاقاتیں کی گئیں لیکن اس کے باوجود تعلقات بہتر نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں، بارڈر بند ہے اور گزشتہ مالی سال خیبرپختونخوا کو 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث رواں مالی سال بھی خیبرپختونخوا کو معاشی نقصان کا سامنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے تین چھوٹے صوبوں سے خطرہ ہے۔ ان کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی بیانیہ غلط ہے، پاکستان کو فتنہ الہندستان سے خطرہ نہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ جو شہداء حکومتی شہداء پیکیج کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان کے خاندانوں کے لیے بھی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
