ایمان ظاہر شاہ 

 

اسلام میں عدت سے متعلق واضح احکام موجود ہیں، تاہم معاشرے میں اس حوالے سے مختلف تصورات، روایات اور غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ بعض اوقات انہی سماجی رویوں اور غیر مصدقہ باتوں کی وجہ سے خواتین کو عدت کے دوران غیر ضروری مشکلات، سماجی تنقید اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

 شریعت میں عدت سے متعلق احکام واضح ہیں، تاہم ان احکام اور معاشرے میں رائج بعض تصورات کے درمیان فرق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: کیا موسمیاتی تبدیلی خواتین کی صحت کے لیے ایک نیا خطرہ بن رہی ہے؟

 

ڈاکٹر مفتی کریم اختر اورکزئی، پاکستان خطباء کونسل کے سربراہ اور سرحد یونیورسٹی پشاور کے لیکچرار، نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے خاندانی نظام کو مضبوط اور پاکیزہ بنیادوں پر قائم رکھنے کے لیے نکاح، طلاق، وراثت اور عدت سے متعلق واضح احکام دیے ہیں۔

 

 

 ان کے مطابق عدت وہ مقررہ مدت ہے جو عورت طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق گزارتی ہے۔ اس دوران وہ بعض شرعی پابندیوں کی پابند ہوتی ہے اور کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی۔

 

انہوں نے بتایا کہ عدت کا مقصد صرف حمل کی موجودگی یا عدم موجودگی معلوم کرنا نہیں بلکہ نسب کی حفاظت، نکاح کی حرمت و عظمت کو برقرار رکھنا اور شوہر کی وفات کی صورت میں اس سے وفاداری اور احترام کا اظہار بھی اس کی اہم حکمتوں میں شامل ہے۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں عدت ہر اس عورت پر واجب ہے جس کا ازدواجی تعلق قائم ہو چکا ہو اور اسے طلاق دی گئی ہو، یا اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہو، یا خلع یا فسخِ نکاح کی صورت پیش آئی ہو۔ ان کے مطابق عدت اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ شرعی حکم ہے، اس لیے اس کی پابندی ہر متعلقہ عورت پر لازم ہے، جبکہ عدت کے دوران نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں۔

 

 

نوشہرہ کے علاقے شیدو کی رہائشی 55 سالہ زینب رحمان نے ٹی این این کو بتایا، “میرے شوہر کے انتقال کے بعد جب میں عدت میں تھی تو میری طبیعت بہت خراب ہو گئی۔ 

 

میں اتنی بیمار تھی کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا، لیکن جب علاج کے لیے گھر سے باہر نکلی تو گاؤں کے بیشتر لوگوں نے مجھے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدت میں عورت گھر سے باہر نہیں نکل سکتی اور میں نے ایسا کرکے اپنے مرحوم شوہر کی بے حرمتی کی ہے۔ بیماری کی تکلیف اپنی جگہ تھی، مگر لوگوں کی باتوں نے وہ وقت میرے لیے مزید مشکل بنا دیا۔”

 

ڈاکٹر مفتی کریم اختر اورکزئی نے بتایا کہ اگر صرف نکاح ہوا ہو، لیکن رخصتی نہ ہوئی ہو اور میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق بھی قائم نہ ہوا ہو تو ایسی صورت میں طلاق کے بعد عورت پر عدت لازم نہیں ہوتی۔ انہوں نے سورۃ الاحزاب کی آیت 49 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی عورت عدت گزارے بغیر نکاح کر سکتی ہے۔

 

 

انہوں نے عدت کی مختلف اقسام بھی بیان کیں۔ ان کے مطابق شوہر کی وفات کی صورت میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے، جبکہ اگر وہ حاملہ ہو تو اس کی عدت بچے کی پیدائش تک ہوتی ہے۔

 

 اسی طرح طلاق یافتہ عورت اگر حیض دیکھتی ہو تو اس کی عدت تین حیض، اگر حیض نہ آتا ہو تو تین قمری ماہ، اور اگر حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش تک ہوگی۔ خلع کی عدت بھی طلاق یافتہ عورت کے حکم کے مطابق ہے۔

 

اسی طرح نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ ثمینہ شاہ کا کہناہے  کہ عدت کے دوران انہیں اپنے مرحوم شوہر کی پنشن اپنے نام منتقل کروانے کے لیے ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کی غرض سے گھر سے باہر جانا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ صرف مطلوبہ دستخط کروانے گئی تھیں تاکہ شوہر کی وفات کے بعد پنشن ان کے نام جاری ہو سکے۔

 

ثمینہ شاہ نے کہا، “میں مکمل حجاب میں گھر سے باہر نکلی، لیکن اس کے باوجود محلے اور برادری کے کئی لوگوں نے مجھے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے شوہر کی وفات اور اس کے احترام سے زیادہ پیسوں کی فکر ہے۔ 

 

 

ان الزامات اور مسلسل تنقید نے مجھے شدید احساسِ جرم میں مبتلا کر دیا، یہاں تک کہ میں ڈپریشن کا شکار ہو گئی، حالانکہ میں صرف ایک ضروری قانونی عمل مکمل کرنے کے لیے گھر سے نکلی تھی۔”

 

اس حوالے سے ڈاکٹر مفتی کریم اختر اورکزئی نے کہا کہ شریعت میں اصل حکم یہی ہے کہ عورت عدت اپنے گھر میں گزارے، تاہم اگر اس کے اخراجات کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود نہ ہو اور ملازمت چھوڑنے سے شدید مالی مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہو تو حقیقی مجبوری کی صورت میں ضرورت کے مطابق دن کے وقت ملازمت پر جانا جائز ہے، بشرطیکہ کام مکمل ہونے کے بعد رات اپنے عدت والے گھر میں گزارے۔

 

انہوں نے علاج معالجے کے حوالے سے کہا کہ اگر عورت شدید بیمار ہو اور ماہر خاتون ڈاکٹر دستیاب نہ ہو تو ضرورت کے تحت مرد ڈاکٹر سے علاج کروانا بھی شرعاً جائز ہے۔ تاہم اس دوران پردے کا اہتمام، صرف ضرورت کے مطابق معائنہ اور کسی محرم یا دوسری خاتون کی موجودگی ضروری ہے۔

 

 

ڈاکٹر مفتی کریم اختر اورکزئی نے اس عام تصور کی بھی تردید کی کہ عدت کے دوران عورت کے لیے سفید یا سیاہ رنگ کے کپڑے پہننا لازم ہے۔ ان کے مطابق شریعت کسی مخصوص رنگ کی پابندی عائد نہیں کرتی، بلکہ اصل حکم یہ ہے کہ عورت سادہ لباس پہنے اور زیب و زینت، چمکدار یا نمائش والے لباس سے اجتناب کرے۔

 

انہوں نے کہا کہ عدت کے دوران شادیوں، دعوتوں اور دیگر خوشی کی تقریبات میں شرکت جائز نہیں۔ تاہم اگر تقریب اسی گھر میں ہو جہاں عورت عدت گزار رہی ہو تو وہ بغیر بناؤ سنگھار کے گھر کے اندر رہتے ہوئے موجود رہ سکتی ہے۔

 

موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی کہ عدت کے دوران موبائل فون کا استعمال ممنوع نہیں۔ 

 

 

عورت ضرورت کے مطابق اپنے اہلِ خانہ سے رابطے، دینی تعلیم یا دیگر جائز ضروریات کے لیے موبائل اور سوشل میڈیا استعمال کر سکتی ہے، تاہم غیر ضروری تفریح، نامحرم افراد سے بلا ضرورت رابطے اور اپنی زیب و زینت کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

 

انہوں نے بتایا کہ عدت کے دوران بنیادی شرعی پابندیوں میں بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلنا، کسی دوسرے شخص سے نکاح یا منگنی نہ کرنا، زیب و زینت سے اجتناب، سادہ لباس اختیار کرنا اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنا شامل ہیں۔ تاہم علاج، ناگزیر گھریلو معاملات یا دیگر حقیقی شرعی ضرورت کی صورت میں بقدرِ ضرورت گھر سے باہر جانے کی اجازت موجود ہے۔

 

ڈاکٹر مفتی کریم اختر اورکزئی کے مطابق آج کے دور میں عدت سے متعلق زیادہ تر سوالات ملازمت، علاج، سفر، خریداری، سوشل میڈیا، شادی بیاہ کی تقریبات، زیب و زینت اور عدت کی مدت سے متعلق سامنے آتے ہیں۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات میں لوگوں کو سنی سنائی باتوں یا معاشرتی رسم و رواج پر انحصار کرنے کے بجائے قرآن و سنت اور مستند علماء سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔