آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے قانون کے تحت پولیس کے انتظامی، مالی اور آپریشنل اختیارات وزیراعلیٰ کو منتقل ہونے سے پولیس فورس کی خودمختاری متاثر ہوگی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق آئی جی خیبرپختونخوا نے مجوزہ پولیس ایکٹ سے متعلق کمیٹی کے اجلاس میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ قانون کے نفاذ کے بعد پولیس میں سیاسی مداخلت اور اثر و رسوخ بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ انتظامی، مالی اور آپریشنل اختیارات منتقل ہونے سے آئی جی پی کا عہدہ مؤثر طور پر بے اختیار ہوجائے گا۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ ایکٹ کے تحت گریڈ 17 سے 21 تک کے پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کا اختیار وزیراعلیٰ کو حاصل ہوگا، جس میں ڈی ایس پیز، ڈی پی اوز، ڈی آئی جیز، ریجنل پولیس افسران اور ایڈیشنل آئی جیز کی تعیناتی و تبادلے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کرک: دورانِ گشت فائرنگ سے شہید پولیس اہلکار ظفران کیس کا مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
مجوزہ قانون کے تحت آئی جی خیبرپختونخوا کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت پولیس افسران کے نام وزیراعلیٰ کو بھیجے گی، جن میں سے ایک افسر کو پولیس سربراہ تعینات کرنے کی منظوری وزیراعلیٰ دیں گے۔ ذرائع کے مطابق کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں وزیراعلیٰ وفاقی حکومت سے مزید 3 نام بھیجنے کا کہہ سکتے ہیں۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ایکٹ کے تحت پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی بھی آئی جی پی کے بجائے وزیراعلیٰ کریں گے، جبکہ آپریشنز کے لیے پیشگی منظوری بھی وزیراعلیٰ سے لینا ہوگی۔
ذرائع کے مطابق آئی جی نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ پولیس ایکٹ 2017 لانے کا مقصد پولیس کو بااختیار بنانا اور سیاسی مداخلت کا خاتمہ تھا، تاہم مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 کے نفاذ سے پولیس فورس کی خودمختاری متاثر ہوگی۔ ان کے مطابق آئی جی کے اختیارات سیاسی قیادت کو منتقل ہونے سے امن و امان کی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پشاور ہائیکورٹ پہلے ہی آئی جی سے اختیارات لینے سے متعلق بعض ترامیم کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔
دوسری جانب وزیر قانون خیبرپختونخوا آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ حکومت پولیس نظام میں بہتری لا رہی ہے اور پولیس پر چیک اینڈ بیلنس بہتر کیا جا رہا ہے تاکہ اختیارات کے غلط استعمال کو روکا جاسکے۔

آفتاب عالم کے مطابق پولیس کے اختیارات کم نہیں کیے جا رہے بلکہ نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے پولیس نظام میں بہتری لانے کے لیے کمیٹی کو مکمل اختیارات دیے ہیں۔
وزیر قانون نے بتایا کہ پولیس افسران سے ملاقات ہوچکی ہے اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔
