موسمیاتی تبدیلی دنیا کے لیے ایک بڑھتا ہوا ماحولیاتی بحران بن چکی ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران واضح طور پر سامنے آئے ہیں۔

 

 شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، تباہ کن سیلاب، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خشک سالی جیسے واقعات نہ صرف لاکھوں افراد کی زندگیوں اور روزگار کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ صحت، زراعت اور معیشت کے لیے بھی سنگین خطرات  پیدا کر رہے ہیں۔

 

 

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں رہے بلکہ انسانی صحت، خصوصاً خواتین کی تولیدی صحت پر بھی ان کے ممکنہ اثرات پر توجہ دی جا رہی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: “اگر میں کام نہ کروں تو میرے بچوں کا خرچہ کون اٹھائے گا؟ بیماری برداشت ہو سکتی ہے، بے روزگاری نہیں”

 

 اگرچہ ابھی تک ایسی مضبوط سائنسی تحقیق موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ موسمیاتی تبدیلی براہِ راست ماہواری کے نظام کو متاثر کرتی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی، ذہنی دباؤ، غذائی قلت اور موسمیاتی آفات سے پیدا ہونے والے حالات خواتین کے ہارمونل نظام پر بالواسطہ اثر ڈال سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ماہواری کے معمول میں تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

 

 

چارسدہ سے تعلق رکھنے والی شمیم کے لیے رمضان کی آمد ہمیشہ روحانی سکون، عبادت اور اطمینان کا پیغام لے کر آتی تھی۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی وہ اپنی ماہواری معمول کے مطابق ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھیں تاکہ یکسوئی سے روزے رکھ سکیں اور عبادات میں مشغول ہو جائیں، مگر اس مرتبہ ان کے ساتھ کچھ مختلف ہوا۔

 

برسوں سے ان کا ماہواری کا سائیکل باقاعدہ تھا اور خون آنا عموماً چھ دن میں ختم ہو جاتا تھا، لیکن اس بار ماہواری آٹھ دن تک جاری رہی۔ چند دن بعد نہانے اور خود کو پاک سمجھنے کے فوراً بعد دوبارہ خون آ گیا۔ 

 

یہ صورتحال نہ صرف جسمانی طور پر ان کے لیے پریشان کن تھی بلکہ مذہبی حوالے سے بھی انہیں شدید الجھن میں مبتلا کر گئی۔ انہوں نے شرعی رہنمائی کے لیے ایک مفتی سے رجوع کیا، مگر ان کے ذہن میں ایک سوال مسلسل گردش کرتا رہا کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟

 

 

شمیم کی کہانی الگ نہیں۔ بہت سی خواتین اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اچانک ماہواری کے دورانیے، مقدار یا وقفے میں تبدیلی کا سامنا کرتی ہیں، مگر اکثر یا تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں یا پھر اس موضوع پر بات کرنے سے گریز کرتی ہیں۔

 

ایسا ہی تجربہ پشاور سے تعلق رکھنے والی گلناز کا بھی رہا، تاہم ان کی پریشانی کی وجہ مختلف تھی۔ان کی شادی میں صرف تین ماہ باقی تھے اور وہ چاہتی تھیں کہ اس خاص موقع پر ان کی جلد صاف اور شفاف نظر آئے۔

 

 چہرے پر بار بار نکلنے والے دانوں کے علاج کے لیے انہوں نے ایک ماہرِ امراضِ جلد سے رجوع کیا۔ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات استعمال کرنے کے چند ہفتوں بعد انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی ماہواری کا معمول تبدیل ہونے لگا ہے۔

 

 

پہلے ان کا سائیکل باقاعدہ تھا اور ماہواری تقریباً چھ دن جاری رہتی تھی، مگر علاج شروع ہونے کے بعد سائیکل تاخیر کا شکار ہونے لگا۔ جب ماہواری آئی تو صرف تین دن جاری رہی اور خون بھی معمول سے کہیں کم تھا۔ اگلے مہینے بھی یہی صورتحال برقرار رہی اور جو سائیکل پہلے 21 سے 28 دن میں مکمل ہو جاتا تھا، اب تقریباً 40 دن بعد آنے لگا۔

 

علاج مکمل ہونے کے باوجود مسئلہ برقرار رہا تو انہوں نے دوبارہ ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ اس موقع پر انہیں بتایا گیا کہ جلد کے علاج میں استعمال ہونے والی بعض طاقتور ادویات عارضی طور پر ہارمونز کے توازن اور ماہواری کے نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے 2022 میں متعارف کرائے گئے جینڈر اینڈ کلائمیٹ چینج ایکشن پلان میں واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خواتین پر مردوں کے مقابلے میں زیادہ شدت سے مرتب ہوتے ہیں۔ 

 

 

خاص طور پر سیلاب کے دوران اور اس کے بعد   پیدا ہونے والی صحت سے متعلق پیچیدگیاں اور متعدی بیماریاں خواتین کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، جس کے باعث ان کی جسمانی صحت اور مجموعی فلاح و بہبود کو سنگین خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔

 

گورنمنٹ جنرل ہسپتال نشترآباد پشاور کی کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر نادیہ مختیار کہتی ہیں کہ موجودہ سائنسی شواہد کی بنیاد پر موسمیاتی تبدیلی کو ماہواری میں بے قاعدگی کی براہِ راست وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی مضبوط اور اعلیٰ معیار کی تحقیق دستیاب نہیں۔ تاہم ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے بالواسطہ اثرات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔

 

ڈاکٹر نادیہ مختیار کے مطابق شدید گرمی، ہیٹ ویوز اور موسمیاتی آفات انسان میں ذہنی اور جسمانی دباؤ پیدا کرتی ہیں۔ اس دباؤ کے نتیجے میں جسم میں کورٹیزول نامی ہارمون کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو دماغ کے اس حصے کو متاثر کر سکتا ہے جو ماہواری کو منظم کرنے والے ہارمونز کو کنٹرول کرتا ہے۔

 

 

 اس کے نتیجے میں بیضہ بننے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ ماہواری کا سائیکل آگے پیچھے ہونے یا اس میں بے قاعدگی پیدا ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

 

وہ مزید بتاتی ہیں کہ دنیا کے مختلف حصوں میں کی گئی مشاہداتی تحقیقات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ شدید گرمی میں کام کرنے والی خواتین یا سیلاب اور دیگر موسمیاتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والی بعض خواتین میں ماہواری کے معمول میں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان تبدیلیوں کی واحد وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے، کیونکہ ہر عورت کا جسم مختلف انداز میں ردعمل ظاہر کرتا ہے اور اس پر متعدد عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔

 

ڈاکٹر نادیہ مختیار کے مطابق ماہواری میں بے قاعدگی کی کئی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں، جن میں پولی سسٹک اووری سنڈروم (پی سی او ایس)، تھائیرائیڈ کے مسائل، ہارمونز کا عدم توازن، غذائی کمی، انفیکشن، بچہ دانی کی بیماریاں، حمل اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔ اسی لیے صرف موسم یا موسمیاتی تبدیلی کو اس کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔

 

 

ان کے مطابق اگر کسی خاتون کو پندرہ دن سے بھی کم وقفے میں دوبارہ خون آنا شروع ہو جائے، مسلسل دو سے تین ماہ تک ماہواری نہ آئے، خون اس قدر زیادہ ہو کہ ہر گھنٹے بعد پیڈ تبدیل کرنا پڑے، بڑے لوتھڑے خارج ہوں، شدید درد ہو یا نہانے اور خود کو پاک سمجھنے کے چند دن بعد دوبارہ خون آنے لگے تو اسے فوری طور پر گائناکالوجسٹ سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت تشخیص اور مناسب علاج ممکن ہو سکے۔

 

ماہرین خواتین کو مشورہ دیتے ہیں کہ گرمیوں میں پانی کا زیادہ استعمال کریں، متوازن غذا کھائیں، آئرن اور پروٹین سے بھرپور خوراک کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، مناسب نیند لیں، روزانہ کچھ وقت چہل قدمی یا ورزش کے لیے ضرور نکالیں اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کریں۔

 

 

 شدید گرمی میں غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، جبکہ باہر جانا ناگزیر ہو تو ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

 

اگرچہ موسمیاتی تبدیلی اور ماہواری کے درمیان تعلق پر تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بدلتا ہوا ماحول انسانی صحت پر مختلف انداز سے اثرانداز ہو رہا ہے۔ ایسے میں خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم میں آنے والی غیر معمولی تبدیلیوں کو نظر انداز نہ کریں۔ انہیں صرف موسم کا اثر سمجھ کر ٹالنے کے بجائے بروقت طبی مشورہ حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت تشخیص اور مناسب علاج ہی بہتر صحت کی ضمانت ہے۔