لکی مروت میں ڈپٹی کمشنر حمیداللہ خٹک کی جانب سے ایک وکیل کے ساتھ مبینہ بدتمیزی اور دھمکیوں کے خلاف ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء نے جوڈیشل کمپلیکس میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور ڈپٹی کمشنر کے خلاف نعرے بازی کی۔
وکلاء نے ڈپٹی کمشنر کے مبینہ غیر قانونی، غیر آئینی اور وکلاء مخالف رویے کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر حمیداللہ خٹک کو دو روز کے اندر عہدے سے ہٹا کر ضلع بدر کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
احتجاجی مظاہرے کی قیادت ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لکی مروت کے صدر آصف اقبال ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور سابق صدر نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے کی۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں کمی کا سلسلہ جاری، آج فی تولہ کتنے روپے سستا ہوا؟
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے آصف اقبال اور نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ ڈپٹی کمشنر نے ضلع کے انتظامی معاملات کو خراب کر دیا ہے۔
ان کے بقول ضلع میں مبینہ کرپشن کے حوالے سے شکایات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ ٹھیکوں کے معاملات میں ڈپٹی کمشنر کے بھائی کو سامنے لائے جانے کی اطلاعات ہیں، جس سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور مفادات کے ٹکراؤ کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ لکی مروت میں بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں، تاہم ضلعی انتظامیہ کو امن و امان اور عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق انتظامیہ کی ذمہ داری عوام کو ریلیف فراہم کرنا، قانون کی بالادستی یقینی بنانا اور امن و امان برقرار رکھنا ہے۔
آصف اقبال ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلاء برادری کسی بھی سرکاری افسر کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتی۔ ان کے بقول اگر کسی وکیل کے ساتھ سرکاری دفتر میں مبینہ بدتمیزی یا دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا جائے گا تو وکلاء اس پر خاموش نہیں رہیں گے اور آئین و قانون کے تحت ہر ممکن راستہ اختیار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے اور کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات بھی کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
وکلاء رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر دو روز کے اندر ڈپٹی کمشنر کا تبادلہ نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
دوسری جانب لکی مروت کے ڈپٹی کمشنر حمیداللہ خٹک نے تمام الزامات کی تردید کردی۔
ٹی این این سے خصوصی گفتگو میں ڈپٹی کمشنر حمیداللہ خٹک نے کہا کہ احسان ایڈووکیٹ ان کے پاس آئے اور فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے فنڈز مانگے، تاہم انہیں واضح کیا گیا کہ فنڈز اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں اور اس کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔
حمیداللہ خٹک کے مطابق اس دوران کسی قسم کی بدتمیزی نہیں ہوئی۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ احسان ایڈووکیٹ نے ایک یونین کونسل میں اپنی مرضی کا پولیو انچارج تعینات کرنے کی سفارش بھی کی، جسے انہوں نے مسترد کردیا۔
حمیداللہ خٹک کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران لکی مروت میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیے گئے ہیں۔
