نازیہ سالارزئی 

 

خیبر پختونخوا میں خواتین صحافیوں کے لیے ہجوم میں رپورٹنگ کرنا آسان کام نہیں۔ جلسہ ہو، احتجاج ہو یا مظاہرہ، ایسی جگہوں پر خواتین صحافیوں کو نہ صرف پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانا ہوتی ہیں بلکہ اپنی حفاظت کا بھی خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔

 

معاشرتی رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود خواتین صحافی عوام کو باخبر رکھنے کے لیے میدان میں موجود رہتی ہیں، تاہم رپورٹنگ سے پہلے سب سے اہم چیز جان کی حفاظت ہے۔ خبر اہم ضرور ہے، لیکن زندگی اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

 

 

ہجوم والی جگہ پر رپورٹنگ کے دوران چند بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے خواتین صحافی اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بہتر انداز میں انجام دے سکتی ہیں۔

 

جگہ اور وقت کا انتخاب

 

رپورٹنگ پر روانہ ہونے سے پہلے سب سے اہم کام جگہ اور وقت کا تعین ہے۔ صحافی کو معلوم ہونا چاہیے کہ جہاں کوریج کے لیے جانا ہے، وہ جگہ رپورٹنگ کے لیے محفوظ اور مناسب بھی ہے یا نہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: لکی مروت: ڈپٹی کمشنر پر وکلاء کے کرپشن کے الزامات، ڈی سی کا مؤقف بھی سامنے آگیا

 

ممکن ہو تو دن کے اوقات میں رپورٹنگ کو ترجیح دینی چاہیے۔ دن کی روشنی میں رپورٹنگ نسبتاً آسان ہوتی ہے اور شام سے پہلے واپسی بھی ممکن ہوتی ہے۔

 

 

پریس کارڈ لازمی ساتھ رکھیں

 

رپورٹنگ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے پریس کارڈ ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ اسے نمایاں انداز میں گلے میں لٹکایا جائے تاکہ پولیس، سیکیورٹی اہلکاروں اور دیگر افراد کو واضح طور پر معلوم ہو کہ آپ صحافی ہیں اور کس میڈیا ادارے سے وابستہ ہیں۔

 

اکیلے جانے سے گریز کریں

 

ہجوم والی جگہ پر خواتین صحافیوں کے لیے ٹیم کی صورت میں جانا زیادہ محفوظ ہے۔ رپورٹر کے ساتھ کیمرہ مین اور ڈرائیور کا ہونا ضروری ہے۔

 

 

رپورٹر جب کوریج میں مصروف ہو تو کیمرہ مین اردگرد کی صورتحال پر نظر رکھ سکتا ہے اور کسی ممکنہ خطرے سے بروقت آگاہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح ڈرائیور کو گاڑی کے قریب موجود رہنا چاہیے تاکہ ہنگامی صورتحال میں ٹیم کو فوری طور پر وہاں سے نکالا جا سکے۔

 

ہجوم میں ممکنہ خطرات

 

احتجاج یا مظاہرے کے دوران صورتحال کسی بھی وقت تبدیل ہوسکتی ہے۔ پولیس کی جانب سے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، شیلنگ یا لاٹھی چارج کیا جا سکتا ہے، جبکہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔

 

 

اس کے علاوہ پولیس کی جانب سے گرفتاریاں، راستوں کی بندش اور بھگدڑ جیسی صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

صحافیوں کے لیے ایک اور اہم خطرہ ان کے پیشہ ورانہ آلات کا نقصان یا چوری ہونا ہے۔ موبائل فون، مائیک، کیمرہ، یو ایس بی اور دیگر ضروری سامان کو محفوظ رکھنا چاہیے۔

 

ضروری سامان ساتھ رکھیں

 

ہجوم والی جگہ پر رپورٹنگ کے لیے جاتے ہوئے پانی، پاور بینک، آنکھوں کی حفاظت کے لیے مناسب عینک، ماسک اور بنیادی فرسٹ ایڈ کٹ ساتھ رکھنا مفید ہے۔

مہنگے زیورات، غیر ضروری رقم اور قیمتی اشیا ساتھ لے جانے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال میں نقصان کم سے کم ہو۔

 

ہجوم کے بیچ نہیں، محفوظ مقام سے رپورٹنگ

 

ہجوم کے درمیان کھڑے ہوکر رپورٹنگ کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ دھکم پیل، بھگدڑ یا اچانک صورتحال خراب ہونے کی صورت میں درمیان میں موجود شخص کے پھنسنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

 

 

خواتین صحافیوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ ہجوم کے کنارے یا کسی نسبتاً محفوظ مقام سے رپورٹنگ کریں۔ اس طرح خبر بھی کور کی جاسکتی ہے اور خطرے کی صورت میں نکلنے کا راستہ بھی نسبتاً آسان رہتا ہے۔

 

ٹیم کے تمام ارکان کو ایک ایسی جگہ بھی پہلے سے طے کرلینی چاہیے جہاں کسی وجہ سے ایک دوسرے سے بچھڑنے کی صورت میں دوبارہ اکٹھا ہوا جاسکے۔

 

ایڈیٹر سے مسلسل رابطے میں رہیں

 

رپورٹنگ کے مقام پر پہنچتے ہی ٹیم کو اپنے ایڈیٹر یا نیوز روم کو آگاہ کرنا چاہیے کہ وہ موقع پر پہنچ چکی ہے۔

اگر صورتحال خراب ہو تو فوری طور پر نیوز روم کو اطلاع دی جائے۔ مسلسل رابطے میں رہنے سے نہ صرف ایڈیٹر کو صورتحال کا اندازہ رہتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر بروقت فیصلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

 

 

نیوز روم کے پاس ٹیم کے تمام ارکان کے رابطہ نمبرز موجود ہونے چاہئیں تاکہ کسی ایک رکن سے رابطہ منقطع ہونے کی صورت میں دوسرے رکن سے رابطہ کیا جاسکے۔

 

ایمرجنسی میں راستہ تلاش نہ کریں، پہلے سے یاد رکھیں

 

رپورٹنگ شروع کرنے سے پہلے خارجی راستوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہنگامی صورتحال میں راستہ تلاش کرنے کے بجائے پہلے سے معلوم راستے سے نکلنا زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔

 

 

اگر ہجوم میں اچانک فائرنگ، دھماکہ یا کوئی بڑا حادثہ پیش آجائے تو وہاں رکنے یا صورتحال کو دیکھنے کے بجائے فوراً محفوظ مقام کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔

 

ایسی صورتحال میں ٹیم کے ارکان ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں، لیکن اگر رابطہ نہ ہو سکے تو ایک دوسرے کا انتظار کرتے ہوئے خود کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے پہلے اپنی حفاظت یقینی بنائیں۔

 

صحافت کا بنیادی مقصد عوام کو باخبر رکھنا اور حقیقت کو سامنے لانا ہے۔ ایک صحافی کے لیے خبر کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اپنی جان کو غیر ضروری خطرے میں ڈال کر خبر حاصل کرنا دانشمندی نہیں۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔