اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے، جبکہ دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔

 

طلال چودھری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کو دستیاب شواہد کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا، جبکہ پریس کانفرنس کے دوران اس حوالے سے مختلف ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔

 

وزیر مملکت کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی کے لیے سہولت فراہم کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے دوران ضیا نامی شخص کو گرفتار کیا گیا، جو آزاد کشمیر کا رہائشی ہے اور گزشتہ 8 سے 10 سال سے اسلحے کے کاروبار سے وابستہ ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: 13 سنگین مقدمات میں مطلوب گینگ کے 2 ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک

 

انہوں نے بتایا کہ ضیا گزشتہ 2 سال سے عوامی ایکشن کمیٹی کے کالعدم دھڑے سے وابستہ بعض افراد کو اسلحہ فراہم کررہا تھا۔ اسے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا، جبکہ اس کے موبائل فون سے اہم معلومات حاصل ہوئیں۔

 

طلال چودھری کے مطابق ضیا کا رابطہ ماجد نامی شخص سے تھا، جو سردار امان کا قریبی ساتھی بتایا گیا ہے۔ سردار امان عوامی ایکشن کمیٹی کے کالعدم دھڑے کے سرگرم رکن ہیں۔ پریس کانفرنس میں ضیا اور ماجد کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو بھی چلائی گئی۔

 

وزیر مملکت نے مزید بتایا کہ ضیا کے افغانستان میں موجود زرشاد نامی شخص سے بھی رابطے تھے، جو افغانستان کے مختلف شہروں سے کام کرتا ہے اور مبینہ طور پر ضیا کو اسلحہ فراہم کرتا تھا، جبکہ اکبر نامی ایک سرکاری ملازم بھی مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کا حصہ ہے۔