خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم رجب عباسی نے صوبے میں مزید 7 ہزار 946 اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان کیا جبکہ دور دراز علاقوں میں ورچوئل کلاسز شروع کرنے کا بھی بتایا۔
رجب عباسی نے کہا کہ اساتذہ کی کمی والے علاقوں میں جلد تعیناتیاں کی جائیں گی، جبکہ ایسے علاقوں میں جہاں اساتذہ کی رسائی ممکن نہیں، وہاں ورچوئل کلاسز کے ذریعے طلبہ کو تعلیم فراہم کی جائے گی۔
ایم پی اے شہلا بانو کے سوال کے جواب میں رجب عباسی نے بتایا کہ 2024 کے بعد صوبے میں 8 ہزار 437 اساتذہ ایٹا کے ذریعے جبکہ 10 ہزار 747 اساتذہ عارضی بنیادوں پر بھرتی کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈیرہ اسماعیل خان: چشمہ رائٹ بینک کینال کا بند ٹوٹنے سے کئی گاؤں زیر آب، سیلابی صورتحال پیدا
کلاچی سے متعلق رجب عباسی کا کہنا تھا کہ 28 بند سکول دوبارہ کھولے جاچکے ہیں جبکہ صرف 2 سکول اب بھی بند ہیں۔
ایبٹ آباد میں سکولوں کی تعمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں 32 سکولوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا، جن میں سے بعض سکول مکمل ہوکر فعال ہوچکے ہیں جبکہ باقی تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں۔
ایس این ایز کی منظوری میں تاخیر کے باعث بعض منصوبوں پر کام تاخیر کا شکار ہوا، تاہم جلد ان سکولوں میں کلاسز شروع کردی جائیں گی۔
اجلاس میں اپوزیشن رکن احسان اللہ نے کلاچی میں سکولوں اور طلبہ سے متعلق فراہم کیے گئے پرانے اور نامکمل ڈیٹا پر اعتراض اٹھایا۔
رکن اسمبلی پختون یار نے بنوں میں سکولوں کی زیرالتوا تعمیر کا معاملہ ایوان میں اٹھایا جبکہ مخدوم آفتاب نے سکولوں میں کلاس فور کی خالی آسامیوں پر بھرتی کا مطالبہ کیا۔اپر دیر میں مکمل عمارتیں موجود ہونے کے باوجود سکول فعال نہ ہونے کا معاملہ بھی ایوان میں زیر بحث آیا۔
رکن اسمبلی عدنان خان نے بنوں سکول نمبر 2 کی تاریخی عمارت مسمار کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے عمارت پر موجود 17 کتبوں کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے کا سوال اٹھایا۔اس پر رجب عباسی نے کہا کہ سکول کی عمارت 1932 میں تعمیر ہوئی تھی اور خستہ حالی کے باعث اسے مسمار کرنا پڑا، تاہم سکول کی عمارت دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔
اے این پی کے پارلیمانی لیڈر ارباب عثمان نے تعلیم کے لیے 363 ارب روپے کے بجٹ کے باوجود مسائل حل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسمبلی کی خصوصی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔
چیئرمین عبدالغنی نے سکولوں کی ایس این ایز سے متعلق زیرالتوا معاملات کی رپورٹ آئندہ ہفتے ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
