پشاور کے تاریخی گھنٹہ گھر کی مصروف سڑک پر صبح ابھی پوری طرح نہیں ہوئی تھی، مگر گرمی کی شدت پہلے ہی محسوس ہونے لگی تھی۔ گاڑیوں کا شور، گرد سے بھری فضا اور جھلسا دینے والی دھوپ کے درمیان 44 سالہ اشرف خان پسینے میں شرابور اپنی ہاتھ گاڑی دھکیلتے ہوئے روزگار کی تلاش میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
کبھی کسی دکان کا سامان، کبھی کسی مسافر کا بوجھ اور کبھی کسی تاجر کی ضرورت ان کے کندھوں پر آ جاتی ہے۔ ہر چکر کے ساتھ ان کی سانسیں بھاری ہوتی جاتی ہیں، مگر ان کے قدم نہیں رکتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر آج گاڑی نہ چلی تو شاید شام کو ان کے گھر کا چولہا بھی نہ جل سکے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں نصف صدی گزارنے والے افغان مہاجرین کو وطن واپسی میں کن مشکلات کا سامنا ہے؟
یہ منظر صرف پشاور کے ایک مزدور کی کہانی نہیں، بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان دنیا بھر کے ان لاکھوں محنت کشوں کی عکاسی کرتا ہے جو روزگار اور زندگی کے درمیان ہر روز ایک کڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران دنیا نے گرمی کی ایسی شدید لہریں دیکھی ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں کے درجہ حرارت کے ریکارڈ توڑ دیے۔ یورپ کے مختلف ممالک شدید گرمی، جنگلات میں لگنے والی آگ، پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہزاروں اموات سمیت سنگین نتائج کا سامنا کر چکے ہیں۔

کئی ممالک کی حکومتوں کو عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کرنا، کام کے اوقات تبدیل کرنا اور ہیٹ ایمرجنسی جیسے اقدامات نافذ کرنا پڑے۔ ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار برقرار رہی تو شدید گرمی مستقبل میں معمول بنتی جائے گی۔
پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو تیزی سے محسوس کر رہے ہیں۔ یہاں گرمی کی شدت اور اس کا دورانیہ دونوں بڑھ رہے ہیں، مگر اس کا سب سے زیادہ بوجھ ان لوگوں پر پڑ رہا ہے جن کی روزی روٹی کھلے آسمان تلے کام کرنے سے وابستہ ہے۔

تعمیراتی مزدور، ہاتھ گاڑی چلانے والے، ریڑھی بان، صفائی کا عملہ، ٹریفک پولیس اہلکار اور ڈلیوری رائیڈرز ہر روز جھلسا دینے والی دھوپ میں اپنی صحت کو داؤ پر لگا کر روزگار کمانے پر مجبور ہیں۔ ان کے لیے ایک دن کی چھٹی صرف آرام کا موقع نہیں بلکہ بچوں کے کھانے، گھر کے راشن اور دیگر ضروری اخراجات پورے نہ ہونے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
شدید گرمی کے اثرات کو اعداد و شمار کے ذریعے ضرور سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس کی اصل شدت ان لوگوں کی زندگیوں میں محسوس ہوتی ہے جو ہر روز اس کا سامنا کرتے ہیں۔
انہی میں سے ایک 44 سالہ اشرف خان ہیں، جن کا تعلق پشاور سے ہے۔ وہ گزشتہ 24 برس سے ہاتھ گاڑی پر سامان ڈھونے کا کام کر رہے ہیں اور آج کل زیادہ تر وقت پشاور کے تاریخی گھنٹہ گھر میں مزدوری کرتے ہیں۔
اشرف خان بتاتے ہیں کہ ان کا دن صبح سویرے شروع ہوتا ہے اور اکثر آٹھ سے دس گھنٹے تک جاری رہتا ہے، لیکن ہر روز مسلسل کام نہیں ملتا۔ شدید گرمی اور بارش کے دوران لوگ کم باہر نکلتے ہیں، جس کے باعث مزدوری بھی متاثر ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پورے دن کی محنت کے باوجود بڑی مشکل سے ایک ہزار سے پندرہ سو روپے کما پاتے ہیں، مگر گرمی کی شدت بڑھنے کے بعد یہ آمدنی بھی پہلے جیسی نہیں رہی۔

ان کے مطابق گرمی صرف روزگار ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ جسمانی طاقت بھی سلب کر لیتی ہے۔ کئی مرتبہ کام کے دوران انہیں چکر آئے، جسم میں پانی کی شدید کمی ہو گئی اور کمزوری اس قدر بڑھ گئی کہ انہیں قریبی دکان کے شیڈ کے نیچے بیٹھ کر کچھ دیر آرام کرنا پڑا۔ پانی پینے کے بعد ہی وہ دوبارہ ہاتھ گاڑی چلانے کے قابل ہوئے۔
اشرف خان ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جون کے آخری ہفتے میں شدید گرمی نے انہیں بری طرح بیمار کر دیا۔ انہیں مسلسل الٹیاں آنے لگیں، جس پر ان کا ایک ساتھی انہیں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے گیا۔

وہاں ڈاکٹروں نے انہیں طبی امداد فراہم کی، آرام کرنے اور زیادہ پانی پینے کی ہدایت کی، مگر وہ صرف ایک دن ہی گھر میں رہ سکے، کیونکہ اگلے ہی روز دوبارہ مزدوری پر نکلنا ان کی مجبوری تھی وہ کہتے ہیں کہ“اگر میں کام نہ کروں تو میرے بچوں کا خرچہ کون اٹھائے گا؟ بیماری برداشت ہو سکتی ہے، لیکن بے روزگاری نہیں۔”
اشرف خان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مزدوروں کے لیے صاف پینے کے پانی، سایہ دار آرام گاہوں، ہنگامی طبی امداد اور مناسب اجرت کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ شدید گرمی میں اپنی جان خطرے میں ڈالے بغیر روزگار کما سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں موجودہ اجرت سے گھر کا نظام چلانا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تعمیراتی شعبے سے وابستہ مزدور بھی روزانہ انہی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، جہاں تپتے سریے، گرم سیمنٹ اور کھلے آسمان تلے کئی گھنٹوں تک مسلسل کام کرنا ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔

مردان سے تعلق رکھنے والے 49 سالہ سردار علی گزشتہ کئی برسوں سے تعمیراتی مزدوری کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ شدید گرمی میں کام کرنا ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق دوپہر کے وقت سر میں شدید درد، چکر آنا، جسم میں پانی کی کمی، غیر معمولی تھکن، جلد کا جھلس جانا اور سانس لینے میں دشواری معمول کی بات بن چکی ہے۔ کئی مواقع پر انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کا جسم مزید کام کرنے کی طاقت کھو چکا ہو، مگر دیہاڑی کی مجبوری انہیں دوبارہ کام پر کھڑا کر دیتی ہے۔
سردار علی کے مطابق زیادہ تر تعمیراتی مقامات پر صرف پینے کے پانی کا محدود انتظام ہوتا ہے، جبکہ سایہ دار آرام گاہ، ابتدائی طبی امداد، او آر ایس، ٹھنڈا پانی اور دیگر حفاظتی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں۔ اگر مزدور خود کہیں سایہ تلاش کر لیں تو کچھ دیر آرام کر لیتے ہیں، ورنہ انہیں دھوپ میں ہی بیٹھنا پڑتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ چونکہ ان کی آمدنی روزانہ کی دیہاڑی پر منحصر ہوتی ہے، اس لیے اگر شدید گرمی کے باعث کام روک دیا جائے تو سب سے پہلے ان کے گھر کا بجٹ متاثر ہوتا ہے۔ ایک دن کی چھٹی بھی بچوں کے راشن، بجلی کے بل اور دیگر ضروری اخراجات پورے کرنا مشکل بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مزدور اپنی صحت کو خطرے میں ڈال کر بھی کام جاری رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
سردار علی کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ شدید گرمی کے دوران تعمیراتی کام کے اوقات تبدیل کیے جائیں۔ ان کے مطابق کام صبح چھ بجے سے گیارہ بجے تک یا شام چار بجے سے سات بجے تک ہونا چاہیے، جبکہ دوپہر گیارہ بجے سے شام چار بجے کے درمیان، جب درجہ حرارت اپنی بلند ترین سطح پر ہوتا ہے، کام معطل کر دیا جائے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ہر تعمیراتی مقام پر ٹھنڈے پانی، او آر ایس، ابتدائی طبی امداد، سایہ دار ٹینٹ اور ہر دو گھنٹے بعد کم از کم پندرہ منٹ کے آرام کو لازمی قرار دیا جائے۔
شدید گرمی کے باعث مزدوروں کو پیش آنے والے مسائل صرف ان کے ذاتی تجربات تک محدود نہیں، بلکہ طبی ماہرین بھی خبردار کر رہے ہیں کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

مردان سے تعلق رکھنے والے طبی ماہر ڈاکٹر محمد وسیم کے مطابق گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ صرف جسمانی تھکن تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی جسم کے اہم اعضا کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم میں کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدور سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں، کیونکہ وہ کئی گھنٹوں تک براہ راست سورج کی شعاعوں میں کام کرتے ہیں۔
ان کے مطابق شدید گرمی کے دوران مزدوروں کو سب سے زیادہ ہیٹ ایگزاسشن (گرمی سے شدید تھکن)، ہیٹ اسٹروک، جسم میں پانی کی شدید کمی، دھوپ سے جلد متاثر ہونے، پٹھوں میں کھچاؤ، چکر آنے، بے ہوشی اور شدید کمزوری جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مسلسل دھوپ میں کام کرنے سے جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دل، گردوں اور دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر وسیم کے مطابق ہیٹ اسٹروک سب سے خطرناک کیفیت ہے، جس میں جسم اپنا درجہ حرارت قابو میں رکھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ ایسی صورت میں مریض کو الجھن، تیز نبض، بے ہوشی اور شدید کمزوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم میں ہسپتالوں میں ایسے متعدد مریض لائے جاتے ہیں جنہیں شدید گرمی کے اثرات یا جسم میں پانی کی کمی کے باعث فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔
ابتدائی طبی امداد کے طور پر متاثرہ شخص کو فوری طور پر سایہ دار یا ٹھنڈی جگہ منتقل کیا جائے، جسم کو ٹھنڈا کیا جائے، پانی یا او آر ایس پلایا جائے، اور اگر حالت میں بہتری نہ آئے تو اسے فوراً ہسپتال منتقل کیا جائے۔
ڈاکٹر وسیم مزدوروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ وقفے وقفے سے پانی یا او آر ایس استعمال کریں، ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہنیں، سر کو ٹوپی یا کپڑے سے ڈھانپ کر رکھیں، جہاں ممکن ہو وقفہ کریں، اور اگر چکر، متلی یا کمزوری محسوس ہو تو فوراً کام روک دیں۔
ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ کام کی جگہ پر صاف پانی، سایہ دار آرام گاہیں، ابتدائی طبی امداد اور گرمی سے بچاؤ کی بنیادی سہولیات یقینی بنائیں۔
دوسری جانب یونیورسٹی آف سوات کے شعبہ ماحولیاتی سائنس کے لیکچرار اور پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر فیاض امین کے مطابق جب کسی علاقے میں درجہ حرارت مسلسل معمول سے زیادہ رہے، رات کے وقت بھی گرمی میں نمایاں کمی نہ آئے اور گرم ہوائیں چلتی رہیں تو اس صورتحال کو ہیٹ ویو کہا جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہیٹ ویوز کے اثرات صرف انسانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پودوں، جانوروں اور پورے ماحولیاتی نظام کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ تاہم اس کے سب سے زیادہ اثرات بزرگ افراد، بچوں، حاملہ خواتین اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں پر مرتب ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر فیاض امین کے مطابق ہاتھ گاڑی چلانے والے، تعمیراتی مزدور، ریڑھی بان، ٹریفک پولیس اہلکار اور دیگر محنت کش کئی گھنٹوں تک مسلسل سورج کی شعاعوں میں کام کرتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی جلد متاثر ہوتی ہے بلکہ جسم کے مختلف اعضا، خصوصاً معدہ، دل اور گردوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مسلسل گرمی ذہنی دباؤ، تھکن اور کام کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہیٹ ویوز کی شدت میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، گرین ہاؤس گیسوں کا مسلسل اخراج، جنگلات کی کٹائی، پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال، صنعتی آلودگی اور گاڑیوں سے خارج ہونے والی مضر گیسیں شامل ہیں۔
ان کے مطابق ماضی میں شدید گرمی کے بعد بارش کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا، لیکن اب موسمی نظام میں تبدیلی کے باعث ایسا کم دیکھنے میں آتا ہے۔ خاص طور پر میدانی علاقوں میں درختوں کی کمی کے باعث درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے، جس سے ہیٹ ویوز کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر فیاض امین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مزدوروں کو محفوظ بنانا چاہتی ہے تو کام کی جگہوں پر سایہ دار ٹینٹ، صاف اور ٹھنڈے پانی کی فراہمی، آرام کے وقفے، ہیٹ ویو ہیلپ ڈیسک اور ہسپتالوں میں خصوصی ہیٹ ویو مراکز قائم کیے جائیں۔
ان کے مطابق گرمی کے دوران تعمیراتی اور دیگر کھلے مقامات پر کام کے اوقات میں تبدیلی بھی ناگزیر ہے تاکہ مزدوروں کی جانوں کو خطرے سے بچایا جا سکے۔
اگرچہ ماہرین احتیاطی تدابیر اور بہتر پالیسیوں پر زور دیتے ہیں، لیکن مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان سفارشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یونائیٹڈ میونسپل ورکرز یونین رجسٹرڈ، سٹی میٹروپولیٹن اینڈ آل ٹی ایم ایز پشاور کے جنرل سیکریٹری سید وقار علی شاہ کہتے ہیں کہ شدید گرمی کے دوران سب سے زیادہ خطرات جسم میں پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک کی صورت میں سامنے آتے ہیں، مگر بدقسمتی سے غیر رسمی شعبوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
ان کے مطابق نجی شعبے میں کام کرنے والے بہت سے مزدور حکومتی فریم ورک کے تحت آٹھ گھنٹے کام تو کرتے ہیں، مگر انہیں مناسب اجرت، الاؤنسز، پنشن اور دیگر بنیادی حقوق میسر نہیں ہوتے۔ کئی مقامات پر مزدوروں کا استحصال آج بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ سرکاری اداروں میں محرم، عید میلاد النبیؐ، کرسمس اور ایسٹر جیسے مواقع پر اضافی ڈیوٹی کے دوران مزدوروں کو کھانا یا فوڈ الاؤنس فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ بارش جیسے ہنگامی حالات میں بعض فیلڈ سرگرمیاں بھی معطل کر دی جاتی ہیں۔ تاہم ایسی سہولیات ہر جگہ دستیاب نہیں ہیں۔
سید وقار علی شاہ کے مطابق ان کی تنظیم مسلسل حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ خیبرپختونخوا کے مزدوروں کے لیے گرمی سے تحفظ کے مؤثر قوانین نافذ کیے جا سکیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان کی کوشش ہے کہ مختلف شہروں اور کام کی جگہوں پر مزدوروں کے لیے مستقل سایہ دار شیلٹرز قائم کیے جائیں، صاف اور ٹھنڈے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، ابتدائی طبی امداد کی سہولت ہر مقام پر موجود ہو، جبکہ شدید گرمی کے دوران دوپہر بارہ بجے سے سہ پہر تین بجے تک کام معطل کرنے کی پالیسی پر مؤثر عمل درآمد کرایا جائے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ یونین حکومت سے یہ بھی مطالبہ کر رہی ہے کہ مزدوروں کے لیے گرمی الاؤنس متعارف کرایا جائے، تمام مزدوروں کو ہیلتھ کارڈ اور انشورنس کی سہولت دی جائے، جبکہ نجی اداروں کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جائے تاکہ مزدوروں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ہماری مسلسل کوشش یہی ہے کہ جلد از جلد مزدوروں کو ریلیف فراہم کیا جائے، ان کی اجرت میں اضافہ کیا جائے اور ان کے اوقاتِ کار تبدیل کیے جائیں تاکہ مستقبل میں انہیں زیادہ تحفظ حاصل ہو سکے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت منصوبہ بندی، مؤثر قانون سازی اور حفاظتی اقدامات کے ذریعے ان خطرات کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
کیونکہ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو صرف موسم نہیں بدلتا بلکہ اس کے ساتھ لاکھوں محنت کشوں کی زندگی، صحت اور روزگار بھی آزمائش میں پڑ جاتے ہیں۔
اگر آج ان مزدوروں کے لیے محفوظ کام کا ماحول، صاف پانی، سایہ، طبی سہولیات اور بہتر اوقاتِ کار یقینی نہ بنائے گئے تو موسمیاتی تبدیلی کی سب سے بھاری قیمت وہی لوگ ادا کرتے رہیں گے جو اس بحران کے ذمہ دار بھی نہیں، مگر اس کا سب سے زیادہ بوجھ انہی کے کندھوں پر ہے۔
