نازیہ سالارزئی
جب زندگی بھاری لگنے لگے اور ذہن مختلف سوچوں میں الجھ جائے تو انسان کا دل تفریح کرنے کو چاہتا ہے۔ تفریح کے لیے پارک ایک بہترین جگہ ہے، جہاں بچے کھیلتے ہیں، بڑے چہل قدمی کرتے ہیں اور خاندان کے افراد چند گھنٹے ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار وقت گزارتے ہیں۔
پرانے وقتوں میں جھولے نہایت سادہ ہوا کرتے تھے۔ گھروں میں درخت سے رسی کا جھولا باندھ دیا جاتا تھا، جبکہ ٹائر کا جھولا بھی بچوں میں بے حد مقبول تھا۔ محلوں میں جھولے والا بابا لوہے کا جھولا لے کر آتا تھا، جہاں بچے جھول کر خوش ہوتے تھے۔

پارکوں میں بھی سادہ ریل، گھومنے والے جھولے، بچوں کی چھوٹی گاڑیاں اور دیگر محفوظ جھولے موجود ہوتے تھے، جن سے بچے ہی نہیں بلکہ بڑے بھی بلا خوف لطف اندوز ہوتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: یورپ جانے کے خواب سے لیبیا کی جیلوں تک: انسانی سمگلروں کے جال میں پھنسے خیبرپختونخوا کے نوجوان
آج کل جدید طرز کے مختلف جھولے متعارف کرائے جا چکے ہیں، جن میں برقی، فائبر اور پلاسٹک سے بنے جھولے شامل ہیں۔
ایگ چیئر سوئنگ انڈے کی شکل کا جھولا ہوتا ہے، جو 360 ڈگری تک گردش کرتا ہے۔ زپ لائن میں سوار سیفٹی بیلٹ پہن کر دو بلند مقامات کے درمیان نصب مضبوط کیبل کے ذریعے بلندی سے نیچے کی جانب پھسلتا ہے۔
آٹو الیکٹرک جھولا برقی موٹر کے ذریعے خودکار انداز میں چلتا ہے، جبکہ سمارٹ سوئنگ میں رنگ برنگی روشنیاں، موسیقی اور جدید کنٹرول سسٹم موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح سوسر جھولا ہوا میں بلند ہونے کے ساتھ مسلسل گردش کرتا ہے، جس سے سوار کو سنسنی خیز تجربہ حاصل ہوتا ہے۔

ان کے علاوہ بھی نت نئے جھولے مختلف تفریحی پارکوں میں نصب کیے جا رہے ہیں، جن سے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تاہم ان جھولوں کا استعمال کرتے وقت حفاظتی اصولوں پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
آج کل بہت سے لوگ خطرناک جھولوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ بہادری کی علامت بھی سمجھتے ہیں۔ وہ ان میں بیٹھ کر ویڈیوز اور تصاویر بناتے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، جنہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی ایسے جھولوں کا تجربہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بچے اکثر خطرناک جھولوں میں بیٹھنے کی ضد کرتے ہیں اور والدین ان کا دل رکھنے کے لیے اجازت دے دیتے ہیں۔ تاہم والدین کی ذمہ داری ہے کہ کم عمر بچوں کو ایسے جھولوں میں اکیلا نہ بٹھائیں، کیونکہ وہ اونچائی پر اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکتے۔ اگر بچے کو جھولے میں بٹھانا ضروری ہو تو اس کے ساتھ خود بھی موجود رہیں۔
اسی طرح دل کے مریض، ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد اور کمزور صحت رکھنے والے لوگوں کو بھی تیز رفتار جھولوں سے گریز کرنا چاہیے۔ اچانک اوپر نیچے ہونے اور تیزی سے گھومنے کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے، بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے اور بعض افراد کو چکر یا متلی کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔
اس لیے ہر جھولے پر واضح طور پر عمر، قد، وزن اور طبی احتیاطی ہدایات درج ہونی چاہییں تاکہ لوگ اپنی صحت کے مطابق فیصلہ کر سکیں۔

عید، ویک اینڈ، گرمیوں کی چھٹیاں، میلوں اور دیگر خوشی کے مواقع پر پارکوں میں رش بڑھ جاتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات یہی خوشی حادثے میں بدل جاتی ہے۔ ناقص یا پرانے جھولے، ڈھیلے نٹ بولٹ، خراب سیفٹی بیلٹ یا مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث کئی افراد زخمی ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض اوقات ایسے حادثات جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔
پارک انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ تمام جھولوں کا روزانہ معائنہ کرے، نٹ بولٹ، زنجیروں، موٹروں اور سیفٹی بیلٹس کی باقاعدگی سے جانچ کرے اور کسی بھی جھولے میں اس کی گنجائش سے زیادہ افراد کو نہ بٹھایا جائے۔ ہر جھولے کے لیے عمر، قد اور وزن کی حد واضح طور پر درج کی جائے، جبکہ تمام تفریحی جھولوں کی متعلقہ اداروں سے رجسٹریشن اور حفاظتی معائنہ بھی یقینی بنایا جائے۔

بطور شہری ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ جھولے میں بیٹھنے سے پہلے اس کی حالت کا جائزہ لیں، سیفٹی بیلٹ لازماً باندھیں اور دورانِ جھولا موبائل فون استعمال نہ کریں، کیونکہ اس سے توجہ بٹتی ہے اور حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسی جھولے میں خرابی نظر آئے تو فوری طور پر انتظامیہ کو آگاہ کریں۔
تفریح انسان کی ضرورت ہے، لیکن احتیاط اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ معمولی سی لاپرواہی خوشیوں کو غم میں بدل سکتی ہے۔ اگر انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور شہری بھی حفاظتی اصولوں پر عمل کریں تو پارک واقعی خوشی، سکون اور صحت مند تفریح کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ کیونکہ محفوظ تفریح ہی حقیقی تفریح ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
