بہتر مستقبل، روزگار اور خوشحال زندگی کی امید میں خیبر پختونخوا کے سینکڑوں نوجوان ہر سال غیر قانونی طریقوں سے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ان میں سے بہت سے انسانی سمگلروں کے جال میں پھنس کر لیبیا کی جیلوں تک پہنچ جاتے ہیں یا بحیرہ روم میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ان سانحات کے بعد نہ صرف نوجوانوں کے خواب ٹوٹ جاتے ہیں بلکہ ان کے خاندان ذہنی اذیت، مالی مشکلات اور طویل انتظار کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

پشاور پریس کلب میں لیبیا میں قید پاکستانیوں کے لواحقین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ دسمبر 2025 میں خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 37 افراد یورپ جانے کی کوشش کے دوران لیبیا میں گرفتار ہوئے تھے۔ ان کے مطابق ابتدائی چھ ماہ تک انہیں اپنے پیاروں کی کوئی خبر نہیں ملی، بعد ازاں معلوم ہوا کہ انہیں لیبیا کے حکام نے حراست میں لے رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: “اگر میں کام نہ کروں تو میرے بچوں کا خرچہ کون اٹھائے گا؟ بیماری برداشت ہو سکتی ہے، بے روزگاری نہیں”
پشاور کے رہائشی سلامت خیل کا جوان بیٹا بھی اس وقت لیبیا میں قید ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا بے روزگار تھا اور گھر والوں سے مشورہ کیے بغیر ایک ایجنٹ کے ذریعے یورپ جانے کے لیے روانہ ہوا۔
وہ کراچی سے کولمبو، پھر دبئی، مصر اور آخر میں لیبیا پہنچا۔ سلامت خیل کے مطابق 25 دسمبر 2025 کو ان کے بیٹے نے آخری بار فون کر کے بتایا تھا کہ وہ کشتی کے ذریعے اٹلی روانہ ہونے والا ہے، مگر اس کے بعد سے اس سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔

لیبیا میں قید پشاور کے علاقے پلوسہ سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ نعمان کے بھائی سلمان خان نے بتایا کہ پاکستان میں بے روزگاری اور غربت سے تنگ آ کر ان کے بھائی نے گھر والوں سے مشورہ کیے بغیر قرض لے کر یورپ جانے کا فیصلہ کیا، لیکن وہ لیبیا میں گرفتار ہو گیا۔ ان کے مطابق نعمان کے دو بچے، والدہ اور اہلیہ آج بھی اس کی واپسی کے منتظر ہیں۔
سلمان خان کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ اہلِ خانہ کو تسلی دیتے ہیں، مگر نہ نعمان اپنی منزل تک پہنچ سکا اور نہ ہی واپس گھر لوٹ سکا۔ ان کے بقول، جب بھی گھر میں نعمان کا ذکر ہوتا ہے تو پورا ماحول سوگوار ہو جاتا ہے۔ ایک طرف خاندان قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب مسلسل بے یقینی اور غم نے کئی افراد کو ذہنی مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق فروری 2025 میں لیبیا کے ساحل کے قریب پیش آنے والے ایک کشتی حادثے میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 60 نوجوان جان کی بازی ہار گئے تھے۔
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سے غیر قانونی ہجرت میں 2021 کے مقابلے میں 2023 کے دوران 280 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 2023 میں مجموعی طور پر 8,728 پاکستانی غیر قانونی طریقوں سے یورپی ممالک پہنچے۔

آئی او ایم کے مطابق بحیرہ روم کا راستہ دنیا کے خطرناک ترین مہاجرتی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے اب تک وسطی بحیرہ روم کے راستے پر 33 ہزار سے زائد افراد ہلاک یا لاپتا ہو چکے ہیں، جبکہ صرف 2024 کے دوران اس راستے پر 1,842 افراد کے ہلاک یا لاپتا ہونے کی تصدیق ہوئی۔
آئی او ایم اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں ایک لاکھ 27 ہزار سے زائد افراد نے لیبیا، تیونس اور الجزائر سے یورپ پہنچنے کی کوشش کی۔ اگرچہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم سمندر کے راستے یورپ جانے کی کوشش اب بھی ہزاروں افراد کی جانوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے نوجوان غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک کیوں جاتے ہیں؟
خیبر پختونخوا کئی برسوں سے بدامنی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ تجارتی سرگرمیوں میں کمی، صنعتوں کی محدود موجودگی اور روزگار کے کم مواقع نے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کر دیا ہے۔

لیبیا میں قید ضلع باجوڑ کے ایک نوجوان فرمان اللہ کے چچا ایوب خان کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران بے روزگاری اور معاشی عدم تحفظ نے نوجوانوں کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کیا ہے۔ تاہم قانونی طریقے سے ہجرت کے لیے مطلوبہ وسائل نہ ہونے کے باعث بہت سے نوجوان غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں۔
ان کے بقول بعض افراد اس طریقے سے یورپ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جس سے دوسرے نوجوان بھی اسی راستے پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اسحاق حسین کے مطابق قبائلی اضلاع سمیت خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر قانونی ہجرت کا رجحان نمایاں طور پر بڑھا ہے۔

انسانی سمگلر نوجوانوں کو اٹلی، یونان اور دیگر یورپی ممالک میں روزگار اور مستقل رہائش کے خواب دکھاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کئی خاندان لاکھوں روپے قرض لیتے ہیں یا اپنی جائیداد فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ڈنکی کا کاروبار کیسے چلتا ہے؟
ایف آئی اے اور مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک پاکستانی نوجوانوں کو وزٹ ویزوں یا دیگر ذرائع سے ایران، دبئی، مصر، آذربائیجان یا لیبیا پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے اٹلی یا یونان منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
لیبیا اس وقت یورپ جانے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانی سمگلر زیادہ منافع کمانے کے لیے کشتیوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ افراد سوار کرتے ہیں، جس کے باعث حادثات کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک جانے والے افراد کے خاندان شدید مالی اور نفسیاتی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اکثر خاندان اپنے نوجوانوں کو بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے 20 سے 40 لاکھ روپے تک قرض لیتے ہیں، جبکہ گرفتاری یا ہلاکت کی صورت میں یہی قرض ان کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتا ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افتاب عالم کے مطابق انسانی سمگلنگ کا مسئلہ صرف ملوث افراد کو سزا دینے سے حل نہیں ہو سکتا۔ ان کے بقول غربت، بے روزگاری اور معاشی مجبوریوں کے باعث لوگ اپنی جان خطرے میں ڈال کر بھی ایسے راستے اختیار کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخوا کے دیگر پسماندہ علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے جاتے، نوجوانوں کے لیے ہنرمندی کے پروگراموں میں اضافہ نہیں کیا جاتا، قانونی اور محفوظ ہجرت کے راستے فراہم نہیں کیے جاتے اور انسانی سمگلروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہوتی، اس وقت تک نوجوان خطرناک راستوں کا انتخاب کرتے رہیں گے۔

لیبیا میں قید نوجوانوں کے لواحقین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتا اور قید پاکستانیوں کا سراغ لگا کر ان کی جلد رہائی کے لیے مؤثر سفارتی اقدامات کیے جائیں۔
خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کی یہ کہانیاں صرف کشتی حادثات یا لیبیا کی جیلوں تک محدود نہیں بلکہ بے روزگاری، عدم تحفظ، محدود معاشی مواقع اور انسانی سمگلنگ کے منظم نیٹ ورک کی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔
یورپ پہنچنے کا خواب بہت سے نوجوانوں کو ایسے راستوں پر لے جا رہا ہے جہاں منزل سے پہلے موت، قید یا برسوں کی بے یقینی ان کی منتظر ہوتی ہے۔ بحیرہ روم میں ڈوبنے والی کشتیوں میں جان گنوانے والے نوجوان اور لیبیا کی جیلوں میں قید پاکستانی اس حقیقت کی زندہ مثال ہیں کہ غیر قانونی ہجرت اکثر بہتر مستقبل نہیں بلکہ ایک ناقابلِ تلافی سانحہ ثابت ہوتی ہے۔
