سوات ایک ایسی وادی ہے جسے قدرت نے اپنی حسین ترین تخلیقات میں جگہ دی ہے۔ برف سے ڈھکی بلند و بالا چوٹیاں، گھنے سرسبز جنگلات، بہتے ہوئے آبشار، پھلوں سے لدے باغات اور دودھ جیسی شفاف نہریں اس وادی کے حسن کو چار چاند لگاتی ہیں۔ یہی دلکش مناظر ہر آنے والے کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔

 

اس وادی کا دل، دریائے سوات، اپنے نیلگوں اور میٹھے پانی کی وجہ سے ہمیشہ اس خطے کی پہچان رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب اس کے شفاف پانی میں آسمان کا عکس اس طرح جھلملاتا تھا جیسے نیلا سمندر پہاڑوں کے درمیان اتر آیا ہو۔ یہی قدرتی حسن سوات کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔

 

تاریخ کے اوراق میں سوات کی اہمیت

 

تاریخی اعتبار سے بھی سوات ہمیشہ دنیا کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ بدھ مت کے دور میں یہ وادی علم، تہذیب اور مذہبی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز سمجھی جاتی تھی۔ بعد ازاں اپنی قدرتی خوبصورتی، معتدل آب و ہوا اور شفاف دریاؤں کی بدولت دنیا بھر سے سیاح یہاں کا رخ کرتے رہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں دوسرے روز بھی بڑی کمی، فی تولہ اب کتنے کا ہو گیا؟

 

بیسویں صدی کے آغاز میں بھی غیر ملکی سیاح سوات آتے تھے، تاہم ڈیجیٹل دور اور سوشل میڈیا نے اس وادی کی شہرت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

 

 

 آج دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ صرف سوشل میڈیا پر سوات کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر اس کی قدرتی خوبصورتی کو قریب سے دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔

 

دریائے سوات: زندگی، شناخت اور قدرتی توازن کی علامت

 

صدیوں سے دریائے سوات محض پانی کا ایک بہاؤ نہیں بلکہ یہاں کے لوگوں کی زندگی، ثقافت، زراعت، ماحول، معیشت اور سیاحت کا بنیادی ستون رہا ہے۔ اس کے کناروں پر سرسبز میدان آباد تھے، بچے کھیلتے تھے، خاندان پکنک مناتے تھے، مختلف اقسام کے پرندے بسیرا کرتے تھے اور شفاف پانی میں مچھلیاں آزادی سے تیرتی دکھائی دیتی تھیں۔ مقامی آبادی کے لیے یہ دریا صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ ان کی شناخت، یادوں اور روزمرہ زندگی کا اہم حصہ تھا۔

 

تاہم گزشتہ دو دہائیوں میں حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ طالبانائزیشن کے بعد جب سوات میں امن بحال ہوا تو سیاحت نے ایک بار پھر تیزی سے فروغ پانا شروع کیا۔ سوشل میڈیا نے اس قدرتی حسن کو دنیا بھر تک پہنچایا، جس کے نتیجے میں ہر سال لاکھوں سیاح سوات کا رخ کرنے لگے۔ لیکن اسی بڑھتی ہوئی شہرت کے ساتھ بعض عناصر نے دریائے سوات کو منافع بخش کاروبار کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔

 

 

محمد بشیر بتاتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب دریائے سوات اپنی فطری ساخت اور قدرتی بہاؤ کے باعث مقامی لوگوں کے لیے کسی اجنبی جگہ کی طرح نہیں بلکہ ایک شناسا ساتھی کی حیثیت رکھتا تھا۔

 

ان کے مطابق بزرگوں اور مقامی باشندوں کو بخوبی معلوم ہوتا تھا کہ گرمیوں میں دریا کا بہاؤ کن مقامات پر تیز ہوگا، سردیوں میں پانی کہاں کم ہوگا، کون سی جگہ گہری ہے اور کہاں سے محفوظ طریقے سے گزرنا ممکن ہے۔ وہ دریا کی ہر موج، ہر موڑ اور ہر گزرگاہ سے واقف تھے کیونکہ دریا اپنی اصل قدرتی حالت میں بہتا تھا۔

 

محمد بشیر مزید بتاتے ہیں کہ طالبانائزیشن کے بعد جب سوات میں دوبارہ امن قائم ہوا تو دنیا بھر کی توجہ ایک مرتبہ پھر اس خوبصورت وادی کی جانب مبذول ہوئی۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تقویت دی اور سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہونے لگا۔

 اسی دوران بعض بااثر عناصر اور مافیا نے دریائے سوات کو کاروبار کا ذریعہ بنا لیا اور بھاری مشینری کے ذریعے بڑے پیمانے پر بجری، ریت اور پتھر نکالنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

 

دریا سے پتھر نکالنے کا روایتی اور محفوظ طریقہ

 

وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی تعمیراتی ضروریات کے لیے دریا سے پتھر نکالے جاتے تھے، مگر اس کا طریقۂ کار آج سے بالکل مختلف تھا۔ اس دور میں گھوڑوں کے ذریعے محدود مقدار میں پتھر نکالے جاتے تھے۔ یہ کام ایسے تجربہ کار افراد انجام دیتے تھے جو دریا کی ساخت، بہاؤ اور قدرتی توازن سے مکمل آگاہ ہوتے تھے۔

 

 

 وہ صرف مخصوص مقامات سے ضرورت کے مطابق مواد نکالتے تھے، پورے دریا کو نہیں کھودتے تھے۔ اسی وجہ سے نہ دریا میں گہرے گڑھے بنتے تھے، نہ اس کے کنارے متاثر ہوتے تھے اور نہ ہی سیاحوں یا مقامی آبادی کی جان کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہوتا تھا۔

 

دریائے سوات کا بدلتا منظرنامہ اور مشینی کھدائی کا آغاز

 

محمد بشیر کے مطابق آج دریائے سوات کی صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ اب دریا کے مختلف مقامات پر بھاری مشینری مسلسل موجود رہتی ہے۔ یہ مشینیں کسی ایک مخصوص مقام تک محدود نہیں بلکہ جگہ جگہ دریا کی تہہ کھودتی ہیں، جس کے نتیجے میں دریا کے اندر بے شمار گہرے گڑھے بن چکے ہیں، جبکہ اس کے کناروں پر بھی شدید کٹاؤ  پیدا ہو رہا ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ یہ گڑھے پانی کے نیچے ہونے کی وجہ سے عام نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ جو سیاح پہلی مرتبہ سوات آتے ہیں، حتیٰ کہ بعض مقامی لوگ بھی ان سے بے خبر ہوتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی شخص ان گہرے حصوں میں داخل ہوتا ہے، پانی کی گہرائی اچانک بڑھ جانے کے باعث حادثات پیش آتے ہیں۔ محمد بشیر کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد قیمتی جانیں انہی مصنوعی گڑھوں کی نذر ہو چکی ہیں۔

 

وہ مزید کہتے ہیں کہ ماضی میں ایسے لوگ موجود تھے جو برسوں کے تجربے کی بنیاد پر دریا کے مزاج سے بخوبی واقف تھے۔ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ کہاں پانی خطرناک ہے، کون سی جگہ محفوظ ہے اور مختلف موسموں میں دریا کا بہاؤ کس طرح تبدیل ہوتا ہے۔ تاہم جب سے بھاری مشینری نے دریا کی قدرتی ساخت کو تبدیل کیا ہے، اس کا فطری نظام بھی بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے، جس پر مقامی لوگوں کا برسوں کا تجربہ استوار تھا۔

 

 

محمد بشیر کے مطابق یہ کام زیادہ تر مقامی لوگ نہیں بلکہ دوسرے علاقوں سے آنے والے افراد کرتے ہیں، جو یہاں سے پتھر نکال کر مختلف شہروں میں منتقل کرتے ہیں۔

 

دریائے سوات: ماضی کی خوبصورتی، آج کی حقیقت

 

کالم نگار جان عالم خان کے مطابق ایک وقت تھا جب دریائے سوات کے دونوں کنارے قدرتی حسن سے مالا مال تھے۔ سرسبز درخت، مختلف اقسام کے پرندے اور کھلے میدان اس علاقے کی پہچان تھے۔ یہ مقامی لوگوں کے لیے ایک قدرتی تفریحی مقام کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں لوگ پکنک منانے آتے اور خوشگوار وقت گزارتے تھے۔

 

ان کے مطابق ماضی میں تعمیراتی ضروریات کے لیے دریا سے پتھر نکالنے کا طریقۂ کار بھی بالکل مختلف تھا۔ گھوڑوں کے ذریعے محدود مقدار میں پتھر نکالے جاتے تھے۔ یہ کام ایسے ماہر افراد انجام دیتے تھے جو دریا کی ساخت اور اس کے بہاؤ کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ مہارت اور احتیاط کے ساتھ پتھر نکالتے تھے، جس سے نہ دریا کو نقصان پہنچتا تھا اور نہ ہی اس کے قدرتی نظام میں کوئی خلل پیدا ہوتا تھا۔

 

وہ کہتے ہیں کہ اس دور میں دریائے سوات نہایت صاف اور اپنی قدرتی حالت میں تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ جب زمین کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو لوگوں نے دریا کے اندر ہی کھیت، گھر اور ریسٹورنٹس تعمیر کرنا شروع کر دیے۔ 

 

 

اس کے نتیجے میں دریا کی قدرتی خوبصورتی متاثر ہونے لگی۔ بعد ازاں گھوڑوں کی جگہ بھاری مشینری نے لے لی اور بڑے پیمانے پر پتھر اور بجری نکالنے کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کے باعث جگہ جگہ گہرے گڑھے بن گئے اور دریا کا بہاؤ مزید خطرناک ہوتا چلا گیا۔

 

 

جان عالم خان کے مطابق پہلے یہاں گھنے درخت، پرندوں کی چہچہاہٹ اور قدرتی ماحول تھا، مگر اب یہ سب بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے۔ دریائے سوات کا قدرتی نظام بگڑنے کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ لوگ بھی بے بس ہو چکے ہیں جو برسوں سے دریا کے مزاج اور اس کے بہاؤ سے واقف تھے، کیونکہ اب دریا اپنی اصل قدرتی حالت میں نہیں رہا۔ اسی بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر حکومت نے بھی دریا کے قریب جانے اور اس میں نہانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

 

ماحولیاتی ماہرین کا انتباہ: بگڑتا قدرتی نظام

 

ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر ثناء اللہ، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ ماحولیاتی سائنس، یونیورسٹی آف سوات کے مطابق دریا سے پتھر اور بجری نکالنے کے ماحولیاتی اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ ان کے مطابق ٹراؤٹ، مہاشیر اور کارپ جیسی مچھلیاں صاف پتھروں کے درمیان انڈے دیتی ہیں، جبکہ انہی پتھروں کے درمیان آکسیجن بھی موجود ہوتی ہے۔ جب یہ پتھر نکال دیے جاتے ہیں تو ان مچھلیوں کی افزائشِ نسل کا قدرتی نظام متاثر ہو کر تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔

 

 

وہ کہتے ہیں کہ پتھروں کی عدم موجودگی میں چھوٹی مچھلیاں خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتیں اور آسانی سے بڑے شکاریوں کا شکار بن جاتی ہیں۔ دریا کی تہہ ہموار ہونے سے پانی کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جبکہ آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ باریک مٹی پانی میں شامل ہو کر مچھلیوں کے انڈوں اور آبی حشرات کو تباہ کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں پوری غذائی زنجیر (فوڈ چین) متاثر ہوتی ہے۔ 

 

یہ بھی پڑھیے: سوات کی نایاب نواب مچھلی: 2022 کے سیلاب کے بعد سوات کی مشہور ٹراؤٹ فش فارمنگ زوال کا شکار

 

ان کے مطابق پتھر دریا کی قدرتی ڈھال کا کردار ادا کرتے ہیں، اور جب انہیں ہٹا دیا جاتا ہے تو پانی کا بہاؤ تیز ہو کر کناروں کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے، جس سے زمین کا کٹاؤ، فصلوں کا نقصان اور سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

 

قانون کیا کہتا ہے؟

 

محکمہ معدنیات خیبر پختونخوا کے رائلٹی انسپکٹر محمد علی خان کے مطابق دریاؤں سے پتھر نکالنے کے لیے باقاعدہ لائسنس کا حصول ضروری ہے، جبکہ بغیر اجازت یہ عمل غیر قانونی ہے۔ ان کے مطابق محکمہ اپنی ٹیموں کے ذریعے دریا کے مختلف علاقوں کی نگرانی کرتا ہے، اور جہاں بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع ملتی ہے وہاں پولیس کے تعاون سے کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

 

 

محمد علی خان کے مطابق بعض عناصر رات کی تاریکی میں غیر قانونی طور پر یہ سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، جس کی وجہ سے کارروائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ محکمہ اس عمل کی روک تھام اور دریائے سوات کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔

 

خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2017 کے تحت غیر قانونی کھدائی پر چھ ماہ سے پانچ سال تک قید اور پانچ لاکھ سے بیس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اسی قانون کے تحت لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی پر اجازت نامہ منسوخ کیا جا سکتا ہے، بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کو بلیک لسٹ کیا جاتا ہے، جبکہ کھدائی مکمل ہونے کے بعد زمین کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنا بھی قانونی طور پر لازمی ہے۔

 

 

دریائے سوات: صرف دریا نہیں، ایک مکمل قدرتی نظام

 

دریائے سوات صرف پانی کا بہاؤ نہیں بلکہ ایک زندہ قدرتی نظام ہے، جو جنگلات، مچھلیوں، پرندوں، زراعت، سیاحت اور انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ جب اس نظام سے بے دریغ پتھر اور بجری نکالی جاتی ہے تو صرف زمین ہی کھوکھلی نہیں ہوتی بلکہ پورا ماحولیاتی توازن بھی بکھرنے لگتا ہے۔

 

سوات کی قدرتی خوبصورتی اسی وقت تک محفوظ رہ سکتی ہے جب تک اس کے دریا کو اس کی اصل حالت میں برقرار رکھا جائے۔ کیونکہ دریا صرف پانی کا بہاؤ نہیں ہوتا... دریا زندگی ہوتا ہے۔