شادی ایک ایسا مرحلہ ہے جسے ہمارے معاشرے میں نئی زندگی کا آغاز کہا جاتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ یہ صرف نئی زندگی کا آغاز نہیں، بلکہ ایک پوری دنیا بدل جانے کا نام ہے۔
ایک لڑکی جو اپنی زندگی کے تقریباً 20 یا 21 سال اپنے والدین کے گھر، اپنے کمرے، اپنی عادتوں، اپنے لوگوں اور اپنی پہچانی ہوئی دنیا میں گزارتی ہے، وہ ایک دن اچانک سب کچھ پیچھے چھوڑ کر ایک نئے گھر کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے۔
اس گھر میں نئے چہرے ہوتے ہیں، نئے رشتے ہوتے ہیں، نئے اصول ہوتے ہیں، نئی ذمہ داریاں ہوتی ہیں، اور ہر چیز اس کے لیے اجنبی ہوتی ہے۔ ایسے میں وہ صرف ایک گھر نہیں بدلتی، بلکہ اپنی روزمرہ زندگی، معمولات، احساسات اور بہت سی وابستگیاں بھی پیچھے چھوڑ آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں کمی، آج فی تولہ کتنے روپے سستا ہوا؟
ایسے وقت میں اگر شادی کے چند ہی دن بعد لڑکی کے والدین کو فون کر کے یہ کہا جائے کہ "آپ کی بیٹی کا یہاں دل نہیں لگ رہا، آ کر اسے لے جائیں" تو یہ جملہ محض ایک شکایت نہیں ہوتا، بلکہ کئی دلوں پر ایک ایسا بوجھ رکھ دیتا ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔

ایک طرف نئی دلہن خود اپنے جذبات سے نبرد آزما ہوتی ہے، تو دوسری طرف اس کے والدین بے شمار خدشات اور پریشانیوں میں گھر جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر کسی کا دل اتنی جلدی کیسے لگ سکتا ہے؟
ہم سب جانتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو صرف اپنا شہر ہی بدلنا پڑ جائے تو نئے ماحول سے مانوس ہونے میں ہفتے بلکہ مہینے لگ جاتے ہیں۔
نئی نوکری ہو، نیا کالج ہو یا نیا محلہ، ہر تبدیلی انسان سے وقت، صبر اور ذہنی ہم آہنگی کا تقاضا کرتی ہے۔ پھر ایک لڑکی تو صرف اپنا شہر یا گھر نہیں بدلتی، بلکہ اپنی پوری زندگی ایک نئے ماحول کے سپرد کر دیتی ہے۔ ایسے میں اگر اس کا دل فوراً نہ لگے تو کیا اسے غیر معمولی یا قابلِ اعتراض سمجھا جا سکتا ہے؟
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس فطری کیفیت کو سمجھنے کے بجائے اکثر اسے لڑکی کی کمزوری یا خامی بنا دیا جاتا ہے۔ اگر وہ خاموش رہے تو کہا جاتا ہے، "یہ ہر وقت اداس رہتی ہے۔" اگر وہ اپنے والدین کو یاد کرے تو طعنہ ملتا ہے، "ابھی تک میکے سے نہیں نکلی۔" اور اگر وہ کچھ دیر تنہائی میں بیٹھ جائے تو فوراً یہ رائے قائم کر لی جاتی ہے کہ "اس کا دل یہاں نہیں لگتا۔" حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔

ایک نئی دلہن دراصل اپنے جذبات کو سمجھنے، سنبھالنے اور ایک نئی زندگی سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اپنے نئے رشتوں کو عزت دے، ان کا اعتماد حاصل کرے اور اس گھر کا حصہ بن جائے، لیکن اسی کے ساتھ وہ اپنے والدین، بہن بھائیوں، اپنے کمرے اور اپنی برسوں پرانی دنیا کی کمی بھی شدت سے محسوس کرتی ہے۔ یہ دونوں احساسات ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک فطری انسانی کیفیت ہیں، جن سے تقریباً ہر نئی دلہن گزرتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات سسرال والے اس کیفیت کو سمجھنے کے بجائے جلد بازی میں لڑکی کے والدین کو فون کر دیتے ہیں۔ اس ایک فون کال کے بعد والدین کی بے چینی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
وہ سوچنے لگتے ہیں کہ شاید ہماری بیٹی خوش نہیں، شاید اس سے کوئی غلطی ہو گئی ہے، یا شاید وہ اس نئے ماحول میں خود کو ڈھال ہی نہیں پائے گی۔ حالانکہ ایسے نازک وقت میں شکایت کرنے کے بجائے اس کا حوصلہ بڑھانے، اس کا سہارا بننے اور اسے یہ احساس دلانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اسے اس نئے سفر میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
ذرا ایک لمحے کے لیے خود کو اس صورتِ حال میں رکھ کر دیکھیے۔ اگر آپ کے گھر میں کوئی نیا فرد آئے تو کیا آپ پہلے ہی دن اس سے یہ توقع رکھیں گے کہ وہ ہر عادت اپنا لے، ہر شخص کے مزاج کو سمجھ لے اور ہر ماحول میں فوراً خود کو ڈھال لے؟ یقیناً نہیں۔ پھر ایک نئی دلہن سے ایسی توقع کیوں رکھی جاتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک لڑکی کا دل لگانے کے لیے صرف وقت ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ لوگوں کے رویّے بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔ اگر اسے محبت، عزت، اپنائیت، اعتماد اور تھوڑا سا صبر ملے تو وہ آہستہ آہستہ اس گھر کو اپنا گھر ماننے لگتی ہے۔ لیکن اگر ہر دوسرے دن اس کے جذبات پر سوال اٹھائے جائیں یا اس کی خاموشی کو غلط سمجھا جائے تو اس کے لیے نئے ماحول سے ہم آہنگ ہونا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ میکے کو یاد کرنا ہرگز اس بات کی علامت نہیں کہ لڑکی اپنے سسرال کو قبول نہیں کر رہی۔ ماں باپ اور اپنے گھر کو یاد کرنا ایک فطری احساس ہے۔ آخر وہی لوگ ہیں جن کے ساتھ اس نے اپنی زندگی کے 20 یا 21 سال گزارے ہوتے ہیں۔ ان کی یاد آنا نہ کوئی جرم ہے اور نہ ہی کمزوری، بلکہ محبت اور وابستگی کی ایک فطری علامت ہے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ جب بھی کسی نئی دلہن کے بارے میں یہ جملہ زبان پر آئے کہ "اس کا دل نہیں لگتا" تو ایک لمحے کے لیے خود سے ضرور پوچھیے کہ اگر آپ کو اپنی 20 یا 21 سال کی دنیا چھوڑ کر ایک اجنبی ماحول میں جانا پڑتا، تو کیا آپ کا دل چند دنوں میں لگ جاتا؟
شاید جواب "نہیں" ہی ہوگا۔
اس لیے نئی دلہن کو وقت دیجیے، اعتماد دیجیے، عزت دیجیے اور سب سے بڑھ کر اپنائیت دیجیے۔ کیونکہ دل زبردستی نہیں لگتے، دل محبت، صبر اور اچھے رویّوں سے جڑتے ہیں۔ جب کسی لڑکی کو واقعی اپنا سمجھا جائے تو ایک دن وہی گھر، جو کبھی اس کے لیے اجنبی تھا، اس کی اپنی دنیا بن جاتا ہے، اور یہی ہر نئے رشتے کی اصل خوبصورتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
