آج کے جدید دور میں موبائل فون ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ تصاویر صرف اس لیے بناتے تھے تاکہ اپنی خوبصورت یادوں کو محفوظ رکھ سکیں۔
کسی سفر کی تصویر، خاندان کے ساتھ گزارا ہوا وقت یا کسی خاص دن کی یاد، سب کچھ اس لیے محفوظ کیا جاتا تھا کہ برسوں بعد جب ان تصویروں کو دیکھا جائے تو وہ حسین لمحات دوبارہ تازہ ہو جائیں۔ لیکن آج وقت بدل چکا ہے۔ اب بہت سے لوگ صرف یادیں محفوظ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگی دوسروں کو دکھانے کے لیے بھی اسنیپس بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: قدرت کا تحفہ، انسانی مداخلت کی زد میں، دریائے سوات کی خوبصورتی خطرے میں کیوں ہے؟
آج ہماری زندگی کا تقریباً ہر لمحہ ایک اسنیپ بن چکا ہے۔ ہم کہیں جا رہے ہوں، کچھ کھا رہے ہوں، کسی سے مل رہے ہوں یا کوئی کام کر رہے ہوں، سب سے پہلے ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ اس لمحے کی تصویر یا اسنیپ ضرور بنانی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم صرف زندگی گزار نہیں رہے بلکہ ہر لمحے کو دوسروں کے سامنے پیش بھی کر رہے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ہم واقعی اپنی یادیں محفوظ کر رہے ہیں، یا پھر دوسروں کو اپنی زندگی دکھانے کی ایک مسلسل دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں؟
اگر ہم کسی مہنگے ہوٹل میں کھانا کھانے جاتے ہیں تو مقصد صرف کھانا کھانا نہیں رہتا، بلکہ وہاں کی خوبصورتی، کھانے کی پلیٹ، ماحول اور اپنی موجودگی کی اسنیپ بنانا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ کئی بار ہم کھانے کے ذائقے سے زیادہ اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ تصویر اچھی آئے گی یا نہیں، لوگ اسے دیکھ کر کیا سوچیں گے، کتنے لوگ اسے پسند کریں گے، اور شاید کتنے لوگ اسے دیکھ کر حسرت یا جلن محسوس کریں گے۔
اسی طرح اگر ہم اے ٹی ایم جا رہے ہوں تو بعض لوگ وہاں بھی اسنیپ بنا لیتے ہیں۔ اگر ڈرائیونگ کر رہے ہوں تو گاڑی، راستے یا سفر کی تصویر بنانا معمول بن چکا ہے۔ اگر کوئی کلاس اٹینڈ کر رہے ہوں تو کتابوں، نوٹس یا کلاس روم کی تصویر شیئر کرنا بھی روزمرہ کی عادت بنتا جا رہا ہے۔ اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید کوئی بھی کام اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس کی ایک اسنیپ نہ بنا لی جائے۔

اسنیپس بنانے کا شوق اپنی جگہ ایک اچھی بات ہے۔ تصاویر ہماری یادوں کو محفوظ کرتی ہیں۔ کئی سال بعد جب ہم اپنی پرانی تصاویر دیکھتے ہیں تو دوستوں، خاندان، سفر اور خوشیوں کے وہ لمحے ایک بار پھر ہماری نظروں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی تصویر ہمیں ماضی کے کسی خوبصورت وقت میں واپس لے جا سکتی ہے۔ اس لحاظ سے اسنیپس ہماری زندگی کی یادوں کا ایک قیمتی خزانہ بھی بن سکتی ہیں۔
لیکن مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب اسنیپ بنانے کا مقصد صرف دوسروں کو متاثر کرنا رہ جائے۔ جب ہم ہر چیز اس لیے شیئر کرنے لگیں کہ لوگ ہماری تعریف کریں، ہمیں کامیاب سمجھیں، ہماری زندگی کو بہترین تصور کریں یا ہمیں حسرت کی نگاہ سے دیکھیں، تو پھر اسنیپس یادوں کے بجائے دکھاوے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
آج سوشل میڈیا پر زیادہ تر لوگ اپنی زندگی کا صرف خوبصورت حصہ دکھاتے ہیں۔ لوگ اپنے اچھے کپڑے، مہنگی جگہیں، کامیابیاں اور خوشیوں کے لمحات شیئر کرتے ہیں، لیکن اپنی پریشانیاں، مشکلات اور ناکامیاں عموماً دوسروں کے سامنے نہیں لاتے۔ جب دوسرے لوگ یہ سب دیکھتے ہیں تو بعض اوقات انہیں محسوس ہوتا ہے کہ سب کی زندگی بہت اچھی ہے اور صرف ان کی اپنی زندگی میں ہی کچھ کمی ہے۔

یہی احساس آہستہ آہستہ انسان میں احساسِ کمتری کو جنم دے سکتا ہے۔ ایک شخص دوسروں کی چند منتخب تصویروں کو دیکھ کر اپنی پوری زندگی کا موازنہ ان سے کرنے لگتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ دوسرے لوگ زیادہ خوش، زیادہ کامیاب اور زیادہ خوش قسمت ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں خوشیوں کے ساتھ مشکلات بھی ہوتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سوشل میڈیا پر اکثر لوگ اپنی زندگی کا صرف روشن پہلو ہی دکھاتے ہیں۔
ہر لمحہ اسنیپ بنانے کی عادت ہمیں اصل لمحے سے بھی دور کر سکتی ہے۔ کئی مرتبہ ہم کسی خوبصورت مقام پر موجود ہوتے ہیں، دوستوں یا خاندان کے ساتھ وقت گزار رہے ہوتے ہیں، لیکن ہماری پوری توجہ اس لمحے کو محسوس کرنے کے بجائے تصویر بنانے، فلٹر لگانے اور لوگوں کے ردِعمل کا انتظار کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ اس طرح وہ لمحہ، جو حقیقت میں ہمیں خوشی دے سکتا تھا، صرف ایک تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسنیپس ضرور بنائیں، لیکن ان کا مقصد صرف دوسروں کو دکھانا نہ ہو۔ کچھ لمحے ایسے بھی ہونے چاہئیں جو صرف ہمارے اپنے ہوں، جنہیں ہم صرف محسوس کریں، جیئیں اور اپنے دل میں محفوظ رکھیں۔ ہر خوشی کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ کچھ یادیں صرف اپنے لیے بھی ہوتی ہیں، اور شاید وہی سب سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری اصل خوشی اس بات میں نہیں کہ ہماری کتنی اسنیپس ہیں یا کتنے لوگ انہیں دیکھتے ہیں۔ حقیقی خوشی اس میں ہے کہ ہم اپنی زندگی کے لمحات کو پوری طرح محسوس کریں، انہیں دل سے جئیں اور ان کی قدر کریں۔
اسنیپ بنانا ایک خوبصورت عادت ہے، بشرطیکہ اس کا مقصد یادوں کو محفوظ کرنا ہو۔ لیکن اگر یہی عادت صرف دکھاوے، دوسروں کو متاثر کرنے یا مسلسل توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے تو یہ ہماری زندگی کے حقیقی اور خوبصورت لمحوں کی اہمیت کو کم کر سکتی ہے۔

زندگی کسی تصویر یا اسنیپ سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر لمحے کو صرف کیمرے میں قید نہ کریں بلکہ اسے پوری طرح محسوس بھی کریں، کیونکہ کچھ لمحات صرف جینے کے لیے ہوتے ہیں، دکھانے کے لیے نہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
