عظمیٰ اقبال
ٹراؤٹ مچھلی، جسے مقامی مارکیٹ میں مچھلیوں کا نواب کہا جاتا ہے، نایاب اور قیمتی ہونے کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ مچھلی صرف ٹھنڈے اور صاف پانی والے پہاڑی علاقوں میں پائی جاتی ہے، اور سوات اسے پیدا کرنے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
سوات آنے والے سیاح نہ صرف اس خوبصورت مچھلی کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں بلکہ اس کا منفرد ذائقہ چکھنے کے لیے بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
مارکیٹ کی قیمت اور صحت کے فوائد
مارکیٹ میں ٹراؤٹ مچھلی کی سب سے زیادہ مانگ ہے اور اس کی قیمت تقریباً تین ہزار روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ٹراؤٹ مچھلی مریضوں کے لیے شفا کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ اس میں پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص مہینے میں صرف ایک بار بھی اس مچھلی کا استعمال کرے تو یہ آنکھوں کی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔
ٹراؤٹ مچھلی کی خاصیت: ایک کانٹا اور آسان پکوان
اس مچھلی کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف ایک کانٹا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بچے اور بزرگ بھی اسے آسانی سے کھا سکتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ نہایت لذیذ ہوتی ہے اور اسے پکانے کے لیے کسی ماہر باورچی کی ضرورت نہیں پڑتی۔

2022 کے سیلاب نے صنعت پر کیا اثر ڈالا
لیکن 2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس نواب مچھلی سے وابستہ ایک پوری صنعت کو شدید نقصان پہنچایا اور سینکڑوں فش فارمرز کا کاروبار تباہ ہو گیا۔
شبیر کی کہانی: سرمایہ کاری اور بے روزگاری
تحصیل مٹہ کے رہائشی شبیر کے مطابق، ان کی دو ٹراؤٹ فش فارمز 2022 کے سیلاب میں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ ان کے ساتھ ایک پارک اور سیاحوں کے لیے بنایا گیا ریسٹورنٹ بھی ختم ہو گیا۔ ان فارمز پر تقریباً آٹھ کروڑ روپے سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں کاروبار مکمل طور پر ختم ہو گیا اور آٹھ ہیلپر بے روزگار ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے: موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر: زعفران نے خیبرپختونخوا کے کسانوں کی حکمت عملی بدل دی
شبیر مزید بتاتے ہیں کہ مینگورہ اور اسلام آباد کے کئی ریسٹورنٹس ان فارمز سے ٹراؤٹ مچھلی لیتے تھے، ان کا کاروبار بھی متاثر ہوا۔ دوبارہ یہ کام شروع نہیں کیا جا سکا کیونکہ اس کے لیے سات سے آٹھ کروڑ روپے درکار تھے، جو دستیاب نہیں تھے۔ حکومت کی طرف سے کوئی مدد نہیں کی گئی۔
جاوید اقبال کے تباہ شدہ فارمز اور مالی نقصان
تحصیل مٹہ کے علاقے حسین آباد میں بھی ٹراؤٹ فارمنگ سے وابستہ افراد کو اسی نوعیت کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ جاوید اقبال نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب نے ان کا کاروبار مکمل طور پر ختم کر دیا۔ ان کا فش فارم، سیاحوں کے لیے بنایا گیا ریسٹورنٹ اور پارک مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور چار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ضائع ہو گئی۔

جاوید اقبال نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کوئی بھی نقصان دیکھنے نہیں آیا۔ سیلاب کے اثرات آج بھی فیملی پر ہیں اور دوبارہ یہ کام شروع کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس میں سرمایہ بہت زیادہ درکار ہے۔
2010 اور 2022 کے سیلاب کا موازنہ
مدین کے علاقے میں بھی ٹراؤٹ فارمنگ سے وابستہ متعدد فارمز سیلاب سے متاثر ہوئے اور اس کاروبار سے وابستہ افراد کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ فش فارمر عباس حسین کے مطابق 2010 کے سیلاب کے بعد حکومت نے 50-50 سکیم کے تحت مدد فراہم کی تھی، جس میں آدھا نقصان حکومت اور آدھا فارمر برداشت کرتے تھے، اس طرح دوبارہ کام شروع کیا گیا۔
لیکن 2022 کے سیلاب میں تقریباً 400 فش فارمز تباہ ہو گئیں، ریسٹورنٹس اور دیگر انفراسٹرکچر بھی نقصان زدہ ہو گئے اور حکومت کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
400 میں سے صرف 100 فش فارمز دوبارہ بحال ہو سکیں، جبکہ باقی لوگ یا تو ملک چھوڑ گئے یا دوسرے کاروبار کرنے لگے۔ عباس حسین کی اپنی دو فش فارمز اور ایک ریسٹورنٹ بھی تباہ ہوئے اور تقریباً تین کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ دوبارہ کام شروع کرنے کے لیے زمین بیچنی پڑی۔
ٹراؤٹ فارمنگ کے چیلنجز
عباس حسین کے مطابق ٹراؤٹ مچھلی صرف ٹھنڈے اور صاف پانی میں زندہ رہتی ہے۔ اگر درجہ حرارت 18 ڈگری سے زیادہ ہو جائے یا پانی صاف نہ ہو تو یہ مر جاتی ہے۔ چھوٹی اور بڑی مچھلیوں کو الگ رکھنا پڑتا ہے کیونکہ بڑی مچھلی چھوٹی کو کھا سکتی ہے۔

خوراک اور دیکھ بھال کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے، اور ایک مچھلی کو ایک کلو تک پہنچنے میں چھ ماہ سے ایک سال لگتا ہے۔ اس دوران اگر دیکھ بھال میں کمی ہو تو مچھلی مر سکتی ہے، اسی لیے بہت سے لوگ یہ کاروبار چھوڑ دیتے ہیں۔
ٹراؤٹ فارمنگ فارمنگ کے شعبے کو نمایاں نقصان
محکمہ فشریز کے مطابق 2022 کے سیلاب نے ٹراؤٹ فارمنگ کے شعبے کو نمایاں نقصان پہنچایا۔ ڈیپٹی ڈائریکٹر فشریز مالاکنڈ ابرار احمد کے مطابق سوات میں 228 ٹراؤٹ فش فارمز تھیں جن میں سے 103 مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، جبکہ ان سے وابستہ 450 لوگ براہ راست متاثر ہوئے۔
اس کے علاوہ ہزاروں لوگ بالواسطہ متاثر ہوئے جن میں ہوٹل مالکان، ہوٹلوں میں کام کرنے والے افراد، مچھلی کی خوراک فراہم کرنے والے اور ہیچریوں کا سامان فراہم کرنے والے شامل ہیں۔ سیاحت کے شعبے کو بھی تقریباً 10 فیصد نقصان پہنچا۔
مدین میں تربیتی مرکز
ابرار احمد نے مزید بتایا کہ مدین میں ٹراؤٹ کلچر اینڈ ٹریننگ سنٹر قائم کیا گیا ہے جہاں سوات، گلگت بلتستان اور چترال کے فش فارمرز کو تربیت دی جاتی ہے اور انہیں ٹراؤٹ مچھلی کی پیداوار اور دیکھ بھال کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔
ٹراؤٹ مچھلی: روزگار اور سیاحتی کشش
ٹراؤٹ مچھلی نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے بلکہ سیاحوں کے لیے بھی سوات آنے کی بڑی وجہ ہے۔
کراچی سے آنے والی سیاح کوثر کے مطابق وہ خاص طور پر کراچی سے سوات آتی ہیں تاکہ ٹراؤٹ مچھلی کا ذائقہ چکھیں اور یہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں۔
ٹراؤٹ مچھلی سوات کی معیشت، سیاحت اور پہچان کا اہم حصہ رہی ہے، لیکن 2022 کے سیلاب نے نہ صرف اس نایاب مچھلی کی پیداوار کم کی بلکہ سینکڑوں خاندانوں کا روزگار بھی چھین لیا۔
آج بھی بہت سے فارمرز حکومتی مدد کے منتظر ہیں، جبکہ کچھ اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو سوات کی یہ نواب مچھلی واقعی صرف یادوں اور کہانیوں تک محدود ہو سکتی ہے۔
