عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے زیر اہتمام منعقدہ لویہ جرگے نے وفاقی حکومت کی جانب سے مالاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کے فیصلے کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

 

جرگے نے خبردار کیا ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے عوامی مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ واپس نہ لیا تو آئین و قانون کے دائرے میں مرحلہ وار عوامی تحریک چلائی جائے گی، جس کی ذمہ داری دونوں حکومتوں پر عائد ہوگی۔

 

یہ بھی پڑھیے: کوہاٹ: بچے کی پیدائش کی خوشی چند لمحوں میں ماتم میں بدل گئی، چھت گرنے سے 10 افراد جاں بحق

 

جرگے کے اعلامیے میں کہا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ عوام کے ساتھ کیے گئے تاریخی، آئینی اور قانونی وعدوں کے منافی ہے، اس لیے اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ اعلامیے میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ٹیکس نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے کر عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔

 

اعلامیے میں خیبرپختونخوا حکومت سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں 2024 سے نافذ سیلز ٹیکس ختم کیا جائے اور خیبرپختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ریگولیشن 2024 میں کی گئی ترامیم فوری طور پر واپس لی جائیں۔

 

 

جرگے کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا دہشت گردی، سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثرہ خطے رہے ہیں، جہاں عوام نے بھاری جانی و مالی نقصانات، بے گھری اور معاشی تباہی کا سامنا کیا۔ 

ان حالات کے باعث سیاحت، زراعت، چھوٹے کاروبار اور مقامی تجارت بری طرح متاثر ہوئی، اس لیے ایسے علاقوں میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ متاثرہ عوام پر ناقابل برداشت معاشی بوجھ ہوگا۔

 

اعلامیے میں کہا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن ملک کو معدنی وسائل، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل کی صورت میں اہم وسائل فراہم کرتا ہے، تاہم مقامی آبادی آج بھی بنیادی سہولیات، روزگار، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں سے محروم ہے۔

 

 جرگے نے مطالبہ کیا کہ آئین میں موجود وسائل کی منصفانہ تقسیم کے اصول کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن میں سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا تسلیم کیا جائے اور اس آمدن کا خاطر خواہ حصہ مقامی ترقی، روزگار اور بنیادی سہولیات پر خرچ کیا جائے۔

 

یہ بھی پڑھیے: مالاکنڈ ڈویژن اور قبائلی اضلاع سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے پر مبارک زیب کا وزیراعظم کو خط

 

 اعلامیے میں کہا گیا کہ جب تک مقامی آبادی کو وسائل کی رائلٹی، روزگار، صنعت اور بنیادی سہولیات میں منصفانہ حصہ نہیں دیا جاتا، اس وقت تک مزید ٹیکس عائد کرنا معاشی ناانصافی ہے۔لویہ جرگے نے مطالبہ کیا کہ ضم اضلاع میں پیدا ہونے والی معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدن کا 60 فیصد انہی اضلاع کے عوام کی فلاح و ترقی پر خرچ کیا جائے۔

 

 

اعلامیے میں کہا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں سات ہائیڈل پاور منصوبے موجود ہیں، جو خاطر خواہ بجلی پیدا کرکے قومی گرڈ کو فراہم کرتے ہیں، لہٰذا اس پیداوار سے مالاکنڈ ڈویژن کو اس کی ضرورت کے مطابق اسی قیمت پر بجلی فراہم کی جائے جس قیمت پر قومی گرڈ کو فروخت کی جاتی ہے، کیونکہ یہ علاقے کا تسلیم شدہ آئینی حق ہے۔

 

جرگے نے وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم، این ایف سی ایوارڈ کے بروقت اجرا اور صوبوں کے آئینی مالی حقوق کی مکمل ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کو اپنے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے درکار وسائل فراہم کیے جائیں۔

 

اعلامیے میں کہا گیا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع کے عوام کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے۔ اگر بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کی جا سکتی ہے تو ریاست اور سابق ریاستوں کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی پاسداری بھی یقینی بنائی جائے۔

 

جرگے نے مطالبہ کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع کو حاصل ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھا جائے اور اس کے ثمرات حقیقی معنوں میں عوام تک منتقل کیے جائیں تاکہ خطے کی معاشی بحالی اور ترقی ممکن ہو سکے۔

 

اعلامیے میں کہا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع سے متعلق کسی بھی آئینی، مالی یا انتظامی فیصلے سے قبل مقامی منتخب نمائندوں، سیاسی جماعتوں، تاجروں، وکلاء اور سول سوسائٹی سے بامعنی مشاورت کو آئینی تقاضے کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

 

 

جرگے نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں سیاحت کے فروغ، تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی، شاہراہوں، پلوں، سیاحتی مقامات، مواصلاتی نظام اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج کا فوری اعلان کیا جائے۔

 

اعلامیے میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کے تمام اضلاع کے لیے خصوصی ترقیاتی گرانٹس، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، کاروباری آسانیاں، صنعتی مراعات اور سرمایہ کاری کے خصوصی منصوبے متعارف کرائے جائیں تاکہ خطے کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

 

لویہ جرگے نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع کے عوام کے آئینی، قانونی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام جمہوری، آئینی اور پرامن ذرائع اختیار کیے جائیں گے اور اس مقصد کے لیے تمام سیاسی، سماجی اور عوامی قوتوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

 

اعلامیے میں کہا گیا کہ عوام پر نئے معاشی بوجھ مسلط کرنے کے بجائے حکومت کی اولین ترجیح دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی، عوام کی معاشی بحالی، سیاحت کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کے حق کو یقینی بنانا ہونی چاہیے۔

 

لویہ جرگے نے واضح کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع کے عوام کے حقوق، وسائل، آئینی، تاریخی اور معاشی حیثیت پر کسی قسم کی سودے بازی یا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ عوام کی مرضی کے خلاف مسلط کیا گیا ہر فیصلہ مسترد ہوگا اور اس کے خلاف بھرپور عوامی، جمہوری اور آئینی مزاحمت کی جائے گی۔

 

عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ اس لویہ جرگے میں مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں، اراکین اسمبلی، وکلاء، تاجر برادری، ہوٹل ایسوسی ایشنز، ٹرانسپورٹرز، چیمبر آف کامرس اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔