وزیر مملکت برائے قبائلی امور مبارک زیب نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو ارسال کیے گئے مراسلے میں وفاقی بجٹ 2026-27 کے تحت ضم شدہ قبائلی اضلاع، پاٹا اور مالاکنڈ ڈویژن کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی درخواست کی ہے۔
اپنے خط میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انضمام کے وقت وفاق نے ان علاقوں کی معاشی بحالی، ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے خصوصی مالی تعاون اور ٹیکس رعایتوں کا وعدہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے سے سرمایہ کاری متاثر ہوگی، معاشی بحالی کا عمل سست پڑ جائے گا اور مقامی آبادی پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
اسی سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بھی وزیراعظم کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع، پاٹا اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کا فیصلہ مؤخر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انضمام کے وقت کیے گئے آئینی، مالی اور ترقیاتی وعدے مکمل نہیں ہوتے اور خطے کے حالات میں واضح بہتری نہیں آتی، اس وقت تک موجودہ ٹیکس استثنا برقرار رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا: چار ماہ بعد سرکاری سکول داخلہ مہم کی کارکردگی کیا رہی؟
دوسری جانب ضم شدہ قبائلی اضلاع (سابق فاٹا)، پاٹا اور مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے وفاقی فیصلے کے خلاف سیاسی جماعتوں، تاجروں، قبائلی مشران، صنعتکاروں کے ساتھ حکومتی نمائندوں نے بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

مختلف علاقوں میں منعقدہ اجلاسوں، پریس کانفرنسوں اور بیانات میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خطہ اب بھی دہشت گردی، نقل مکانی اور معاشی مشکلات کے اثرات سے مکمل طور پر نہیں نکل سکا، اس لیے ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھا جائے۔
اسی سلسلے میں ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں اکاخیل قومی کونسل کے دفتر میں امیر جماعت اسلامی ضلع خیبر شاہ فیصل آفریدی کی زیرِ قیادت ایک گرینڈ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع خیبر کے تاجروں، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، قبائلی مشران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس کے شرکا نے متفقہ طور پر مؤقف اختیار کیا کہ قبائلی اضلاع میں بنیادی ڈھانچہ، تعلیم، صحت، روزگار اور کاروباری سرگرمیاں تاحال مکمل بحال نہیں ہو سکیں، جبکہ ہزاروں مکانات، تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز بدامنی سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ٹیکسوں کا نفاذ عوام اور کاروباری طبقے پر مزید معاشی بوجھ ڈالے گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قبائلی اضلاع میں ٹیکس نفاذ کے خلاف منظم عوامی تحریک شروع کی جائے گی، جبکہ تحریک کی حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے ایک کور کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ شرکا نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور روزگار کے مواقع پیدا کیے بغیر ٹیکس پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔
سابق وفاقی وزیر حمیداللہ جان آفریدی نے بھی ٹیکس نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی، فوجی آپریشنز، نقل مکانی، معاشی مشکلات اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔
ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو ٹیکس عائد کرنے سے پہلے انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک قبائلی اضلاع کو دیگر علاقوں کے مساوی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں، اس وقت تک ٹیکسوں کا نفاذ مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔

ادھر انجمن تاجران باڑہ نے بھی ٹیکس نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کو مزید دس سال تک ہر قسم کے ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے۔ باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجمن کے صدر سید ایاز وزیر نے کہا کہ گزشتہ تقریباً پچیس برسوں کے دوران دہشت گردی، بدامنی، فوجی کارروائیوں اور مسلسل نقل مکانی نے قبائلی عوام کی معیشت، کاروبار، مکانات اور دیگر اثاثوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
ان کے مطابق متعدد خاندان اس وقت اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے موجودہ معاشی حالات میں ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانا ممکن نہیں۔ انہوں نے وزیراعظم اور صدرِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کو مزید دس برس تک ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
ادھر انجمن تاجران جمرود بازار کے صدر کاشف اقبال آفریدی، جنرل سیکرٹری عبدالعزیز آفریدی اور فنانس سیکرٹری کامران آفریدی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ بدامنی، دہشت گردی، فوجی آپریشنز اور بار بار نقل مکانی نے قبائلی اضلاع کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ٹیکسوں کا نفاذ مقامی کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا، اس لیے قبائلی اضلاع کو مزید دس سال تک ہر قسم کے ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے۔
واضح رہے کہ 2018 میں 25ویں آئینی ترمیم کے تحت سابق فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام کیا گیا تھا، جس کے بعد وفاقی اور صوبائی قوانین کا مرحلہ وار نفاذ شروع ہوا۔
انضمام کے بعد قبائلی اضلاع، پاٹا اور مالاکنڈ ڈویژن میں کاروباری سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے مختلف ٹیکس رعایتیں برقرار رکھی گئیں۔ تاہم وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 سے ٹیکس استثنیٰ میں مرحلہ وار کمی کا عمل شروع کیا، جبکہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بعض صنعتی درآمدات اور مقامی سپلائی پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کر دی۔
دوسری جانب قبائلی اضلاع کے تاجروں، صنعتکاروں، چیمبرز آف کامرس اور سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ یہ علاقے چار دہائیوں تک دہشت گردی، بدامنی اور نقل مکانی سے متاثر رہے ہیں، جہاں بنیادی ڈھانچہ اور معاشی سرگرمیاں ابھی تک مکمل بحال نہیں ہوئیں۔
ان کے مطابق ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے بجائے تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد ایسا قابلِ قبول حل نکالا جائے جو ریاستی محصولات اور خطے کی معاشی بحالی، دونوں تقاضوں میں توازن برقرار رکھ سکے۔
