اپر سوات کے علاقے بیدرہ سے تعلق رکھنے والے سیف الرحمان نے بتایا ہے کہ ان کی 7 سالہ بیٹی نور میں بچپن سے لڑکوں جیسی قدرتی علامات اور عادات ظاہر ہو رہی تھیں، جس پر اہل خانہ نے طبی معائنے کرانے کا فیصلہ کیا۔

 

والد کے مطابق ڈاکٹروں نے تفصیلی معائنے کے بعد بچے کی جسمانی کیفیت کا جائزہ لیا اور طبی مراحل مکمل ہونے کے بعد آپریشن کیا، جس کے بعد اسے لڑکا قرار دے دیا گیا۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں آٹا پھر مہنگا، 20 کلو تھیلے کی قیمت کہاں تک پہنچ گئی؟

 

 خاندان نے اس کا نام نور سے تبدیل کرکے محمد نور رکھ دیا۔

 

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد خاندان اور قریبی عزیز و اقارب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جبکہ والد نے اسے اللہ کا خاص کرم قرار دیا۔

 

تاہم اس معاملے پر متعلقہ ڈاکٹروں یا میڈیکل ادارے کا باضابطہ مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔