سوات کی قدیم تاریخ میں راجہ گیرا کا نام ایک ایسے حکمران کے طور پر لیا جاتا ہے جسے مقامی روایات میں اس خطے کا آخری غیر مسلم حکمران قرار دیا جاتا ہے۔
تاریخ اور زبانی روایات کے مطابق وہ ایک بااثر بادشاہ تھے جن کا دور سوات کی ابتدائی سیاسی و ثقافتی تشکیل سے جڑا ہوا سمجھا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا ذکر صرف تاریخ تک محدود نہیں رہا بلکہ آج بھی سوات، دیر اور کوہستان کے مختلف قبائل خود کو ان کی نسل سے منسوب کرتے ہیں، جس سے یہ موضوع محض ماضی کا نہیں بلکہ موجودہ شناخت کا بھی حصہ بن جاتا ہے۔
اس حوالے سے گاوری برادری کے مقامی استاد اور ڈاکٹر بلال اس روایت کو تاریخی حوالوں کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:“ہم گاوری راجہ گیرا کی اولاد ہیں۔
یہ بات تاریخی کتابوں میں بھی موجود ہے، جیسے پرویز شاہین کی کتاب ‘دا سوات گلونہ’ (Da Swat Gulona)، اور ایس ایچ گاڈفرے کا مضمون ‘آ سمر ایکسپلوریشن ان اپر پنجکوڑہ’ (A Summer Exploration in Upper Punjkora)، اور تاریخی کتاب ‘دیر کوہستان’ (Dir Kohistan) کے حوالے بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ راجہ گیرا کا تعلق داردیک قوم کی گاوری شاخ سے تھا۔

جب 11ویں صدی عیسوی میں محمد غزنوی نے سوات کے بریکوٹ اور اوڈیگرام پر حملہ کیا تو اس میں راجہ گیرا لڑتے ہوئے مارے گئے، جبکہ ان کا بیٹا راجہ بیرا اور ان کے لوگ گاوری مختلف علاقوں کی طرف منتقل ہو گئے۔ بعد میں یہ لوگ پنجکوڑہ، دیر اور لاموتی میں آ کر آباد ہوئے اور یہاں انہوں نے رہائش اختیار کی۔
بعد ازاں آہستہ آہستہ اسلام قبول کرنے کے بعد یہ دوبارہ سوات کے علاقوں میں واپس آئے۔ آج تقریباً دو لاکھ کے قریب لوگ گاوری زبان بولتے ہیں اور زیادہ تر کالام، کوہستان، بشام اور دیر میں آباد ہیں۔”
دوسری جانب توروالی برادری کے نمائندہ، سماجی کارکن اور آزاد محقق زبیر توروالی اس تاریخ کو مشترکہ نسلی تسلسل کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ“ہم توروالی بھی راجہ گیرا کو اپنا آخری راجہ مانتے ہیں۔
مختلف تاریخی کتابوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ گاوری اور توروالی دراصل ایک ہی نسل ہیں۔ ان کی ثقافت ایک جیسی ہے، پہلے ان کی زبان بھی ایک تھی لیکن وقت کے ساتھ مختلف علاقوں میں ہجرت کی وجہ سے زبان میں تبدیلیاں آئیں۔
کوار، داردیک، کوہستانی، توروالی — یہ سب ایک ہی نسل کے مختلف نام ہیں، اور راجہ گیرا کو اپنا آخری بادشاہ کہتے ہیں۔ راجہ گیرا ہندوشاہی بادشاہ تھا اور بعض مورخین اور مقامی بزرگ افراد اسے بدھ مت سے بھی جوڑتے ہیں۔
جب 11ویں صدی میں محمد غزنوی نے حملہ کیا تو راجہ گیرا کے بیٹے بیرا نے ان گاوری، توروالی اور دیگر داردیک اقوام کو دیر اور لاموتی کی طرف منتقل کیا۔ سوات کے بریکوٹ اور اوڈیگرام میں آج بھی ان کے قلعوں کے آثار موجود ہیں۔

راجہ گیرا کی شکست کے بعد ان قبائل کو کوہستانی کہا جانے لگا، جو فارسی لفظ ہے یعنی پہاڑوں میں رہنے والے۔ اس وقت ان میں کوئی واضح فرق موجود نہیں تھا، بعد میں زبان اور علاقوں کی بنیاد پر ناموں میں فرق آیا — کچھ خود کو توروالی، کچھ گاوری اور کچھ کوہستانی کہنے لگے۔
راجہ گیرا کی نسل میں سے کچھ لوگوں نے 11ویں صدی میں حملے کے بعد اسلام قبول کیا جبکہ بہت سے لوگوں نے 1600ویں صدی میں اسلام قبول کیا جب سوات میں پشتون یوسفزئی قبائل آئے۔ آج توروالی، گاوری اور کوہستانی سب مسلمان ہیں۔
توروالی لوگوں کی تعداد اس وقت تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے، جن میں سے ایک لاکھ کے قریب سوات بحرین میں آباد ہیں جبکہ تقریباً پچاس ہزار لوگ روزگار کے لیے کوئٹہ، کراچی، لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں مقیم ہیں۔”
مقامی مورخین کے مطابق راجہ گیرا سے متعلق کہانیاں آج بھی کوہستان اور بالائی سوات کے لوگوں کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔
مقامی مورخ گمنام کوہستانی کے مطابق “اگرچہ مورخین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ راجہ گیرا کے نام سے سوات کا کوئی مقامی حکمران گزرا ہے یا نہیں، لیکن بعض محققین انہیں سوات کے آخری غیر مسلم حکمران یا ہندوشاہی دور کے مقامی گورنر کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ جہاں تک مقامی روایات کا تعلق ہے، اس بارے میں مضبوط دلائل موجود ہیں۔
بالائی سوات اور دیر میں آباد گاوری قبائل سمیت توروالی قبیلہ انہیں اپنے جدِ امجد کے طور پر ذکر کرتے ہیں۔ تاریخی روایات میں ان کی ایک بیٹی منجا دیوی، ایک بیٹا پیر راجا، اور اسلامی لشکر کے کمانڈر پیر خوشحال کا ذکر بھی ملتا ہے۔
منجا دیوی اور خوشحال کے تعلقات، پیر خوشحال کے قتل، اور راجہ گیرا کی شکست کے بعد بالائی پنجکوڑہ کی طرف ان کے سفر اور راستے میں راجہ گیرا کی وفات پانے کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔
یہ روایات نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہیں، اور 1912 میں دیر کوہستان آنے والے انگریز سیاح ایس ایچ گاڈفرے نے بھی اپنی کتاب ‘آ سمر ایکسپلوریشن آف پنجکوڑہ ویلی’ (A Summer Exploration of Punjkora Valley) میں ان کا ذکر کیا ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ راجا بیرا کا ذکر بھی مقامی روایات میں موجود ہے، اور ان سے منسوب قلعوں، کہانیوں اور ان کی نسل کے حوالے بھی بیان کیے جاتے ہیں۔

یہ روایات ان مقامی لوگوں کی ہیں جو اسلامائزیشن کے مختلف ادوار کے دوران زیریں دیر، سوات اور باجوڑ سے بالائی سوات اور دیر کوہستان کی طرف منتقل ہوئے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ گندھارا اور داردی قبائل کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ زبان، ثقافت اور مقامی تاریخ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ موجودہ داردی قبائل قدیم گندھاری قبائل کی باقیات ہیں، جو مختلف ادوار میں ہجرت کر کے پہاڑی علاقوں میں آباد ہوئے۔ خاص طور پر پندرہویں اور سولہویں صدی میں جب یوسفزئی قبائل سوات کے خطے میں آئے تو بہت سے داردی لوگ پہاڑوں کی طرف منتقل ہو گئے۔
ان کے مطابق گاوری اور توروالی دونوں داردی النسل لوگ ہیں اور ہزاروں سال سے ہندوکش کے ان علاقوں میں آباد ہیں۔ قدیم سنسکرت اور یونانی مورخین نے بھی ان قبائل کا ذکر مختلف ناموں سے کیا ہے۔
دریائے پنجکوڑہ کا قدیم نام گوری تھا، اور اسی نسبت سے یہاں آباد لوگ گاوری کہلائے۔
یوسفزئی قبائل نے پندرہویں صدی میں آہستہ آہستہ اس علاقے پر کنٹرول حاصل کیا، جس کے نتیجے میں مقامی داردی قبائل پہاڑی علاقوں کی طرف منتقل ہو گئے۔
اس پورے تاریخی عمل میں ہجرت، ثقافتی تبدیلی اور نئی شناختوں کا ظہور شامل رہا، جس کے اثرات آج بھی اس خطے کی زبانوں، ثقافت اور سماجی ساخت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔”
وہ مزید کہتے ہیں کہ راجہ گیرا کی شخصیت تاریخ اور روایت دونوں میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ یہ صرف ایک تاریخی حوالہ نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہے جو آج بھی لوگوں کی شناخت اور یادداشت کا حصہ ہے۔
