ملک بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث متبادل توانائی کی جانب عوام کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا ہے، ایسے میں سولر توانائی کے شعبے سے صارفین کیلئے بڑی خوشخبری سامنے آگئی ہے۔

 

عالمی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد پاکستان میں بھی سولر سسٹمز کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

 

 مارکیٹ ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر سولر سیلز کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے بعد اب استحکام آنا شروع ہوگیا ہے، جس کے مثبت اثرات پاکستانی مارکیٹ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرنسی کے حساب سے عالمی سولر سیلز کی قیمت تقریباً 13 روپے 50 پیسے فی واٹ تک پہنچ چکی ہے، جسے توانائی ماہرین ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

 

 

سولر انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران سولر ٹیکنالوجی کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم عالمی پیداوار بڑھنے کے باعث اب قیمتوں میں واضح کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کاروباری طبقہ بھی بھرپور فائدہ اٹھا سکے گا، جبکہ بجلی کے بڑھتے نرخوں اور لوڈشیڈنگ کے مسائل کے پیش نظر سولر توانائی طویل المدتی بچت کا مؤثر ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔

 

مارکیٹ میں 5 کلوواٹ اور 10 کلوواٹ کے گھریلو سولر سسٹمز کی قیمتوں میں بھی واضح کمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ مختلف کمپنیوں کی جانب سے آسان اقساط اور خصوصی پیکجز بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

 

توانائی ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں سولر سسٹمز مزید سستے ہوسکتے ہیں، جس سے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔