پشاور میں باڑہ سیاسی اتحاد اور حکومتی حکام کے درمیان طویل مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد حکومت نے اتحاد کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مطالبات تسلیم کرلیے۔
مذاکرات کے بعد باڑہ اور اکاخیل میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے آئندہ جمعہ گرینڈ جرگہ بلانے پر بھی اتفاق کیا گیا جبکہ تیراہ متاثرین کی واپسی سے متعلق باضابطہ اعلان بھی اسی جرگے میں متوقع ہے۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے کہا کہ تیراہ کے عوام کئی برسوں سے بدامنی، نقل مکانی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد متاثرین میں امید کی نئی لہر پیدا ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: محکمہ ایکسائز کی پرسنلائزڈ چوائس نمبر پلیٹس کی نیلامی، کون کون سے منفرد نمبر شامل؟
مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باڑہ، اکاخیل اور وادی تیراہ میں پائیدار امن، متاثرین کی باعزت واپسی، تباہ شدہ گھروں کے معاوضوں کی ادائیگی، روزگار کی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں پر شفاف عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
یاد رہے کہ باڑہ سیاسی اتحاد نے تیراہ متاثرین اور عوامی مسائل کے حل کے لیے 14 نکاتی مطالبات پیش کیے تھے جن میں متاثرین کی واپسی، زرعی سرگرمیوں کی اجازت، امدادی رقوم کی ادائیگی، ترقیاتی پیکج کی تفصیلات، سرکاری نوکریوں میں شفافیت، تباہ شدہ گھروں کے معاوضے اور خطے میں امن و امان کے قیام جیسے اہم نکات شامل تھے۔
ادھر باڑہ سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی باڑہ بازار سے نکالی گئی تھی جس میں ضلع خیبر سمیت پشاور کے مختلف علاقوں میں مقیم تیراہ متاثرین، نوجوانوں، بزرگوں، قومی عمائدین اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء کا پشاور داخلے پر مختلف مقامات پر استقبال بھی کیا گیا۔
ریلی جب پشتہ خرہ رنگ روڈ چوک پہنچی تو پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔ مظاہرین کو پشاور کینٹ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کے دوران پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔
بعد ازاں مظاہرین نے احتجاجاً پشتہ خرہ رنگ روڈ کو شام گئے تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رکھا جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی۔
مذاکراتی جرگے میں سیاسی اتحاد کی جانب سے صدر ہاشم خان، حاجی شیریں، شاہ فیصل اور ملک عطااللہ شریک تھے جبکہ حکومت کی نمائندگی کمشنر پشاور، آئی جی ایف سی، چیف سیکرٹری، ڈی سی خیبر، اے ڈی سی خیبر اور دیگر حکام نے کی۔
