پشاور ہائی کورٹ میں عوامی صحت سے متعلق اہم مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں شہر اور مختلف علاقوں میں چوہوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات، بچوں کی اموات اور خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا معاملہ عدالت کے سامنے رکھا گیا۔

 

سماعت کے دوران سيف اللہ محب کاکاخیل ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ چوہوں کے حملوں کے باعث متعدد خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ بعض واقعات میں بچوں کی اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، خاتون خودکش بمبار گرفتار

 

 انہوں نے عدالت کے سامنے اخباری تراشے، رپورٹس اور عوامی شکایات بھی پیش کیں تاکہ صورتحال کی سنگینی کو واضح کیا جا سکے۔

 

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مسئلہ محض انفرادی نوعیت کا نہیں بلکہ پورے معاشرے اور عوامی صحت سے جڑا ہوا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، جس کے فوری تدارک کی ضرورت ہے۔

 

 

 انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ اداروں کو مؤثر اقدامات کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ شہریوں، خصوصاً بچوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

 

سماعت کے دوران جسٹس وقار احمد نے ریمارکس دیے کہ اب “ہنٹا وائرس” جیسی خطرناک بیماریاں بھی چوہوں کے ذریعے پھیل رہی ہیں، جو اس مسئلے کی حساسیت اور سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔

 

عدالت نے معاملے کی اہمیت کے پیش نظر متعلقہ حکام سے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے، جبکہ آفس کو ہدایت کی گئی ہے کہ کیس کی آئندہ سماعت 15 جون 2026 کو مقرر کی جائے۔