ہم اکثر کہتے ہیں کہ خوشی اور غم اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں، مگر جب کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو ہم فوراً اس کا الزام کسی انسان پر ڈال دیتے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس الزام کا سب سے آسان ہدف ایک نئی آنے والی دلہن بن جاتی ہے۔ وہ لڑکی جو امیدوں، خوابوں اور دعاؤں کے ساتھ اپنے نئے گھر میں قدم رکھتی ہے، بعض اوقات ایسے الفاظ سننے پر مجبور ہو جاتی ہے جو اس کی پوری زندگی پر گہرا اثر چھوڑ دیتے ہیں۔
ہمیں خود سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے: کیا واقعی ایک نئی زندگی شروع کرنے والی لڑکی کسی اور کے نصیب کی ذمہ دار ہو سکتی ہے؟
یہ محض سنی سنائی بات نہیں، بلکہ ایک ایسا واقعہ ہے جسے میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
چند دن پہلے میں چارسدہ جا رہی تھی۔ موٹر وے پر ہم سے کچھ فاصلے پر باراتیوں کی گاڑیاں جا رہی تھیں۔ رفتار غیر معمولی حد تک تیز تھی، اور نوجوان لڑکے لاپرواہی سے ڈرائیونگ کر رہے تھے۔ شور، ہنسی مذاق اور بے فکری اس حد تک تھی کہ جیسے کسی کو کسی ممکنہ خطرے کا احساس ہی نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا: سی این جی بندش پر وزیر اعلیٰ کا نوٹس
اسی لمحے دل میں خیال آیا کہ یہ رویہ کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے، مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ چند ہی لمحوں بعد یہ خدشہ حقیقت بن جائے گا۔
جب ہم رجڑ کے قریب پہنچے تو منظر دیکھ کر دل دہل گیا۔ وہی باراتیوں کی گاڑیاں حادثے کا شکار ہو چکی تھیں۔ ہر طرف افراتفری تھی، لوگ زخمی تھے اور فضا میں خوف پھیلا ہوا تھا۔ ہم وہاں سے گزر تو گئے، مگر دل پر ایک بوجھ سا رہ گیا۔
رات کو جب اسی واقعے کی خبر دیکھی تو معلوم ہوا کہ کئی افراد زخمی ہوئے ہیں اور دلہا کی والدہ انتقال کر گئی ہیں۔ یہ سن کر دل مزید بوجھل ہو گیا۔
اسی دوران ایک رشتہ دار خاتون نے تبصرہ کیا:“لڑکی نے ابھی گھر میں قدم بھی نہیں رکھا اور ساس کو کھا گئی، بڑی منحوس ہے۔”
یہ جملہ سن کر میں خاموش ہو گئی، مگر ذہن میں ایک ہی سوال گونجتا رہا: آخر اس لڑکی کا قصور کیا ہے؟
میں سوچنے لگی کہ اس دلہن پر کیا گزر رہی ہوگی۔ جس دن کا وہ برسوں سے انتظار کر رہی تھی، وہی دن اس کے لیے صدمے میں بدل گیا۔ ایک طرف وہ خود اس سانحے کے غم سے دوچار ہے، اور دوسری طرف اسے ایسے الفاظ سننے پڑ رہے ہیں جو اسے اندر سے توڑ سکتے ہیں۔
اگر ایک اجنبی اتنی آسانی سے اسے "منحوس" کہہ سکتا ہے، تو اس کے اپنے لوگ اس کے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے؟ کیا کسی نے اس کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کی ہوگی؟
حقیقت یہ ہے کہ اس حادثے کی اصل وجہ تیز رفتاری اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ تھی، مگر الزام ایک بے گناہ دلہن پر ڈال دیا گیا۔
خوشی کے مواقع پر ہم اکثر احتیاط بھول جاتے ہیں، اور ایک لمحے کی لاپرواہی ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے الزام دینا آسان سمجھتے ہیں—اور اس کا نشانہ اکثر وہ لڑکی بنتی ہے جو پہلے ہی نئی زندگی کے دباؤ سے گزر رہی ہوتی ہے۔ اسے "منحوس" کہنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ایک ایسی ذہنی اذیت ہے جو دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔
ذرا سوچیں، وہ لڑکی خود کو کیسے محسوس کرتی ہوگی؟ کیا وہ کبھی اس احساسِ جرم سے نکل پائے گی؟
حقیقت یہ ہے کہ حادثات ہماری اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، نہ کہ کسی ایک انسان کی موجودگی کا۔ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے، اس لیے کسی بے قصور کو ذمہ دار ٹھہرانا نہ صرف غیر منطقی بلکہ غیر انسانی بھی ہے۔
سوال یہی ہے: کیا ہم اپنی سوچ بدلیں گے، یا ہمیشہ کی طرح کسی بے گناہ کو ہی قصوروار ٹھہراتے رہیں گے؟
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
