پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی حقوق، این ایف سی ایوارڈ، امن و امان، معدنی وسائل اور گندم کی ترسیل سمیت اہم قومی و صوبائی امور پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا مقصد صوبائی حقوق کے حوالے سے اتفاقِ رائے پیدا کرنا تھا، جس میں این ایف سی شیئر سمیت مختلف معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے اور صوبے کے عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے عوام کو وہ حقوق حاصل نہیں جو لاہور، کراچی اور کوئٹہ کے شہریوں کو میسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر کے سامنے بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا اور صوبے کے حقوق کے لیے مشترکہ آواز بلند کرنے پر اتفاق ہوا۔
سہیل آفریدی نے پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی کو آئین کے آرٹیکل 151 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مشاورت ہوئی ہے اور دونوں قیادتیں اس کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کریں گی۔
وزیراعلیٰ نے گیس کی فراہمی کے مسئلے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا یومیہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کو اپنی پیدا کردہ گیس سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ صوبوں کا آئینی حق ہے، اس میں اضافہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن کسی صورت کمی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتیں صوبائی حقوق اور خودمختاری کے تحفظ پر متفق ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ صوبے کے وسائل پر قبضہ اور عوام کو ان کے حق سے محروم رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی اضلاع میں حکومتی رٹ کمزور ہو چکی ہے اور حالات فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔
جے یو آئی (ف) سربراہ نے مدارس رجسٹریشن قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاق میں منظور ہونے والے قانون کو خیبرپختونخوا میں بھی من و عن نافذ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے باوجود مسائل برقرار ہیں اور بعض علاقوں میں نہ پٹواری جا سکتا ہے اور نہ ہی تحصیلدار۔

مولانا فضل الرحمان نے معدنی وسائل کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور عناصر صوبے کے معدنی ذخائر پر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست وسائل کے تحفظ کی ذمہ دار ہے، تاہم مقامی آبادی کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے گندم کی ترسیل پر پابندی کو غیر آئینی اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد بند ہے تو خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے گندم کی فراہمی روکنا ناانصافی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر قومی مسائل کا حل تلاش کرے، جبکہ صوبائی حکومت کو بھی امن و امان کے معاملے پر تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی معاملات پر یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بجٹ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی بجٹ عمران خان کے وژن کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ سازی کے دوران معمولی ناراضگیاں فطری ہوتی ہیں، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی بغاوت ہونے جا رہی ہے۔
