کوئٹہ میں ہفتے کے روز تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی ڈاکٹر ماہ نور اس وقت کراچی کے آغا خان اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ان کے جسم کا 13 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے، جن میں 7 سے 8 فیصد حصے پر گہرے زخم موجود ہیں۔ تاہم ان کی مجموعی طبی حالت بہتر اور مستحکم بتائی جا رہی ہے۔

 

ڈاکٹروں کے مطابق ان کی آنکھوں کے اطراف زخم ضرور ہیں، تاہم ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ ان کی بینائی مکمل طور پر محفوظ ہے۔ پلاسٹک سرجنز، آئی اسپیشلسٹ اور دیگر ماہرین نے ان کا تفصیلی معائنہ مکمل کر لیا ہے۔ اس وقت انہیں اسپیشل کیئر یونٹ میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں 24 گھنٹے بعد دوبارہ طبی معائنہ کیا جائے گا۔

 

یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں پھر بڑی کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟

 

دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی گزشتہ روز ڈاکٹر ماہ نور کی عیادت کے لیے آغا خان اسپتال کراچی پہنچے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے ان کی حالت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

 

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ڈاکٹر ماہ نور کی فیشل سرجری کے لیے انہیں دنیا کے کسی بھی ملک منتقل کرنا پڑا تو حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی۔

 

واضح رہے کہ 6 جون 2026 کو ڈاکٹر ماہ نور کوئٹہ کے سینڈیمین سول ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں اپنی معمول کی ڈیوٹی پر موجود تھیں، جب ہسپتال کے ایک لفٹ آپریٹر نے ان کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ کھلتے ہی ملزم نے ان پر تیزاب پھینک کر فرار ہو گیا۔

 

 

بعد ازاں پولیس کے مطابق ملزم ہمایوں شاہ نے سرچ آپریشن کے دوران ہتھیار ڈالنے کے حکم پر فائرنگ کی، جس کے بعد جوابی کارروائی میں وہ مارا گیا۔