مردان کے شیخ ملتون ٹاؤن میں پیش آنے والے تہرے قتل اور اغوا کیس کو پولیس نے حل کر لیا ہے۔ کارروائی کے دوران 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ 2 کمسن بچیوں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ، چھینی گئی موٹر کار اور دیگر شواہد بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔

 

ڈی پی او مردان مسعود احمد نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ رواں ماہ 4 تاریخ کو شیخ ملتون ٹاؤن کے ایک گھر میں نامعلوم ملزمان نے داخل ہو کر میاں بیوی سمیت 3 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کیا تھا جبکہ 2 کمسن بچیوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

 

یہ بھی پڑھیے: ماحولیاتی تحفظ کے لیے بڑا اقدام: خیبرپختونخوا میں جنگلات کی کٹائی کے خلاف ہیومن رائٹس کونسل عدالت پہنچ گئی

 

واقعے کے بعد ایس پی انویسٹی گیشن نثار احمد خان کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی جس میں ایس پی سٹی ماریہ مصطفیٰ، ڈی ایس پیز اور دیگر تفتیشی افسران شامل تھے۔

 

ڈی پی او کے مطابق پولیس نے جدید سائنسی اور تکنیکی شواہد کی مدد سے کیس کو ٹریس کرتے ہوئے 4 ملزمان عماد، جواد، عاطف اور سنان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ 5ویں ملزم اشرف کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

 

 

ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان مقتولین کے گھر آنا جانا رکھتے تھے۔ واردات کے روز انہوں نے منصوبہ بندی کے تحت گھر میں داخل ہو کر موبائل فون اور گاڑی چھین لی اور بعد ازاں جلال، اس کی اہلیہ اور سالے کو فائرنگ کر کے قتل کیا۔

 

ملزمان واردات کے بعد 2 کمسن بچیوں ایمان اور دعا کو ساتھ لے گئے تھے، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دونوں بچیوں کو چارسدہ چوک کے قریب سے بحفاظت بازیاب کرا لیا۔

 

پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے چھینی گئی موٹر کار اور 2 پستول بھی برآمد کر لیے ہیں جو مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہوئے تھے۔

 

ڈی پی او مردان نے کہا کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔