خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں بدامنی کی صورتحال کے باعث قومی جرگے کے فیصلے پر آج سے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں علاقے میں تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔

 

مقامی ذرائع کے مطابق جرگے کے فیصلے کے تحت نہ صرف اسکول اور کالجز بند کیے گئے ہیں بلکہ جاری پولیو مہم کا بھی بائیکاٹ کر دیا گیا ہے۔ بعض سرکاری اداروں کے مقامی اہلکاروں کو بھی کام بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان انتخابات: نتائج کا سلسلہ جاری، کون سی جماعت سب سے آگے؟

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاجی صورتحال کے دوران قومی جرگے نے لنڈی کوتل تحصیل دفاتر کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا ہے، جبکہ علاقے میں موٹرسائیکلوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں پڑانگ سنگ چیک پوسٹ پر موٹرسائیکل سواروں کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔

 

مزید بتایا گیا ہے کہ جرگے کے فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جو گاؤں یا افراد احتجاج میں شامل نہیں ہوں گے، انہیں سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ 50 ہزار روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔

 

 

واضح رہے کہ کچھ روز قبل ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے سلطان خیل کونج گراؤنڈ (سکندر خیل) میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پاک فوج کے اہلکار سمیت دو افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

 

جاں بحق افراد کی شناخت شاہ فہد ولد محمد آیاز اور محبوب الرحمن عرف بڈہ کے ناموں سے ہوئی، دونوں کا تعلق سکندر خیل سے بتایا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق شاہ فہد عید کی چھٹیوں پر گھر آیا ہوا تھا۔

 

واقعے کے بعد علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے احتجاج جاری ہے۔