پاکستان میں مہنگائی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس نے معاشرے کے ہر طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
روزمرہ استعمال کی اشیاء، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی تعلیمی فیسیں، کرایۂ مکان، ادویات اور کھانے پینے کی بنیادی ضروریات اس قدر مہنگی ہو چکی ہیں کہ ایک عام آدمی کے لیے گھر کا نظام چلانا ایک مشکل امتحان بن گیا ہے۔ جو چیزیں کبھی معمولی آمدنی میں آسانی سے خرید لی جاتی تھیں، آج انہیں خریدنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔
مہنگائی اب صرف مالی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ لوگوں کے ذہنی سکون، خاندانی رشتوں اور معاشرتی زندگی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مردان: شیخ ملتون ٹاؤن میں تین افراد کے قتل اور اغوا کیس کا معمہ حل، 2 بچیاں بازیاب، 4 ملزمان گرفتار
ایک عام مزدور، ملازم یا کاروباری شخص صبح سے رات تک محنت کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود اکثر گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو پاتے۔ جب ایک انسان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو جائے تو وہ ذہنی دباؤ، بے چینی اور مایوسی کا شکار ہونے لگتا ہے۔ ہر وقت پریشانی کے بادل اس کے سر پر منڈلاتے رہتے ہیں، چڑچڑا پن بڑھ جاتا ہے اور معمولی باتیں بھی اسے غصے میں مبتلا کر دیتی ہیں۔
اسی ذہنی دباؤ کا سب سے زیادہ اثر گھریلو زندگی پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر میاں بیوی کے درمیان تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ شوہر سارا دن محنت کرنے کے باوجود جب گھر کے اخراجات پورے نہیں کر پاتا تو وہ خود کو بے بس اور ناکام محسوس کرنے لگتا ہے۔

دوسری جانب بیوی بھی بچوں کی ضروریات، راشن، دوائیوں اور دیگر اخراجات کے بوجھ تلے پریشان رہتی ہے۔ جب بنیادی ضرورتیں پوری نہ ہوں تو گھر کا ماحول کشیدہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
پھر وہی گھر، جو کبھی سکون اور محبت کا مرکز ہوتا تھا، بحث و تکرار اور پریشانیوں کا گڑھ بن جاتا ہے۔ معمولی اختلافات بڑی لڑائیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھنے اور سہارا دینے کے بجائے اکثر لوگ اپنا غصہ اپنے ہی پیاروں پر نکالنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً محبت کم اور فاصلے زیادہ ہونے لگتے ہیں۔
مہنگائی کے اثرات صرف میاں بیوی تک محدود نہیں رہتے بلکہ مشترکہ خاندانی نظام بھی اس سے شدید متاثر ہوتا ہے۔ دیورانیوں اور جٹھانیوں کے درمیان موازنہ، حسد اور احساسِ محرومی بڑھنے لگتا ہے۔
اگر ایک بھائی کی آمدنی زیادہ ہو اور دوسرے کی کم، تو اکثر رویے بھی بدل جاتے ہیں۔ زیادہ کمانے والے گھرانے کو زیادہ عزت اور اہمیت دی جاتی ہے جبکہ کم آمدنی والے افراد خود کو نظر انداز اور کمتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔یہ رویے دلوں میں دوریاں پیدا کرتے ہیں۔
لوگ ایک دوسرے کے حالات سمجھنے کے بجائے سہولتوں کا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ کوئی اچھے کپڑوں کو دیکھتا ہے، کوئی بہتر تعلیم کو، اور کوئی بڑے گھر کو۔ آہستہ آہستہ یہ موازنہ رشتوں کی خوبصورتی کو ختم کر دیتا ہے اور محبت کی جگہ حسد لے لیتا ہے۔
مہنگائی کا ایک اور خطرناک پہلو جرائم میں اضافہ ہے۔ جب بے روزگاری، غربت اور مالی دباؤ حد سے بڑھ جائے تو کچھ لوگ غلط راستوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ ہر غریب انسان جرم نہیں کرتا، لیکن مسلسل معاشی مشکلات بعض افراد کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں جن کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
آج آئے روز موبائل فون چھیننے، ڈکیتیوں، چوریوں اور دیگر جرائم کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ یہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی بدحالی کی ایک تلخ تصویر بھی ہے۔ جب معاشرے میں امید کم اور محرومی زیادہ ہو جائے تو جرائم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

نوجوان طبقہ بھی مہنگائی اور بے روزگاری کے دوہرے عذاب کا شکار ہے۔ ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں۔
کئی نوجوان اپنی قابلیت کے مطابق ملازمت نہ ملنے پر مجبوراً کم تنخواہ والی نوکریاں کرتے ہیں، جبکہ بے شمار نوجوان مکمل طور پر بے روزگار ہیں۔ جب ایک نوجوان کے خواب بار بار ٹوٹتے ہیں تو اس کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، اس کی امیدیں دم توڑنے لگتی ہیں اور وہ مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس تمام صورتحال کا ایک اور افسوسناک اثر بچوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ بہت سے والدین مالی مشکلات کے باعث بچوں کی معیاری تعلیم جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔
کئی بچے اپنی خواہشات کو دل میں دبائے بڑے ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے والدین ان کی ہر ضرورت پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایک باپ کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ لمحہ شاید کوئی نہیں ہوتا جب اس کا بچہ کسی چیز کی خواہش کرے اور وہ اسے پورا نہ کر سکے۔

تاہم، ان مشکل حالات میں سب سے زیادہ ضرورت ایک دوسرے کو سمجھنے اور سہارا دینے کی ہے۔ گھر کے حالات جیسے بھی ہوں، میاں بیوی کو ایک دوسرے پر الزام لگانے کے بجائے ایک دوسرے کی طاقت بننا چاہیے۔ اسی طرح خاندان کے دیگر افراد کو موازنہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی عزت اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، لیکن بطور معاشرہ ہمیں بھی ہمدردی، تعاون اور ایک دوسرے کے حالات کو سمجھنے کا رویہ اپنانا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی نے صرف جیبیں خالی نہیں کیں بلکہ لوگوں کا سکون بھی چھین لیا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے ایک دوسرے کا ساتھ دیں، کیونکہ محبت، صبر اور باہمی احترام ہی مشکل وقت کو آسان بنا سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
