گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 حلقوں میں ہونے والے انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ 

 

اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 3 نشستیں حاصل کر چکی ہے۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ایک امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ 5 نشستوں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔

 

حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوگی۔

 

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 10 ہزار 594 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے محمد شفیق الدین 6 ہزار 312 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: 4 شہادتیں، 20 سے زائد زخمی: آزاد کشمیر میں حالات کیوں بگڑ رہے ہیں؟

 

حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 کے 91 میں سے 27 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان 4 ہزار 129 ووٹوں کے ساتھ پہلے جبکہ پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2 ہزار 695 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

 

حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3 میں آزاد امیدوار سید سہیل عباس 7 ہزار 877 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر ایڈووکیٹ 7 ہزار 361 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 4 نگر 1 میں پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 7 ہزار 654 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 6 ہزار 597 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 5 نگر 2 میں پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 2 ہزار 705 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے ریاض اکبر 2 ہزار 584 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ میں آزاد امیدوار نیک نام کریم 6 ہزار 360 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق 5 ہزار 417 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 7 اسکردو 1 میں پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4 ہزار 337 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال حسین خان 3 ہزار 891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 میں مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم 10 ہزار 474 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 10 ہزار 118 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 9 اسکردو 3 میں پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 6 ہزار 314 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6 ہزار 106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 10 اسکردو 4 میں پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان 6 ہزار 582 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان 4 ہزار 667 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 11 کھرمنگ میں پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 5 ہزار 944 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سید محسن رضوی 4 ہزار 589 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 12 شگر میں پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 12 ہزار 944 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے راجہ محمد اعظم خان 8 ہزار 682 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 13 استور 1 کے 57 میں سے 36 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4 ہزار 368 ووٹوں کے ساتھ پہلے جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4 ہزار 312 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

 

حلقہ جی بی اے 14 استور 2 کے 51 میں سے 35 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد فاروق 4 ہزار 300 ووٹوں کے ساتھ پہلے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون 3 ہزار 865 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

 

حلقہ جی بی اے 15 دیامر 1 کے 51 میں سے 11 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق آزاد امیدوار محمد دلپزیر 1 ہزار 426 ووٹوں کے ساتھ پہلے جبکہ جے یو آئی (ف) کے ولی الرحمان 996 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

 

حلقہ جی بی اے 16 دیامر 2 کے 42 میں سے 8 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے عتیق اللہ 1 ہزار 302 ووٹوں کے ساتھ پہلے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے محمد انور 1 ہزار 69 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

 

حلقہ جی بی اے 17 دیامر 3 کے 46 میں سے 11 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 2 ہزار 244 ووٹوں کے ساتھ پہلے جبکہ جے یو آئی (ف) کے رحمت خالق 1 ہزار 128 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

 

حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4 کے 34 میں سے 33 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمن 5 ہزار 527 ووٹ لے کر پہلے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 5 ہزار 59 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

 

حلقہ جی بی اے 19 غذر 1 میں پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ 9 ہزار 613 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار نواز خان ناجی 8 ہزار 210 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 20 غذر 2 میں مسلم لیگ (ن) کے عبدالجہاں 6 ہزار 917 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے نذیر احمد 6 ہزار 758 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 21 غذر 3 میں آزاد امیدوار امان علی 9 ہزار 938 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ 6 ہزار 643 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 22 گھانچے 1 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 9 ہزار 308 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 8 ہزار 52 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 23 گھانچے 2 میں آزاد امیدوار انور علی 12 ہزار 117 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار عبد الحمید 4 ہزار 119 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

حلقہ جی بی اے 24 گھانچے 3 میں آزاد امیدوار اسد شفیق 8 ہزار 92 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5 ہزار 72 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

 

انتخابات کے لیے گلگت بلتستان بھر میں 1,389 پولنگ اسٹیشنز اور 2,450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے تھے۔ ان میں خواتین کے لیے 1,112، مردوں کے لیے 1,268 جبکہ 68 مشترکہ پولنگ بوتھ مختص کیے گئے تھے۔

 

الیکشن کمیشن کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد ہے۔ انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے، جبکہ انتخابات سے قبل دیامر میں مسلم لیگ (ن) کے حامیوں پر فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔

 

اب تک سامنے آنے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، تاہم حکومت سازی کے لیے اسے سادہ اکثریت یا اتحادی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی حمایت درکار ہوگی۔