ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر اظہار الدین نے جنرل سیکرٹری محمد دانیال اور لیگل ایڈوائزر ایڈووکیٹ حمزہ جمشید کے ہمراہ صوبے میں جاری جنگلات کی بے دریغ اور غیر قانونی کٹائی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں آئینی رٹ پٹیشن دائر کر دی۔

 

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جنگلات کی تباہی محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقِ زندگی، صاف اور صحت مند ماحول اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا اقدام، پشاور میں آغا خان اسپتال کے قیام پر اہم پیشرفت

 

 درخواست گزاروں کے مطابق جنگلات کی مسلسل غیر قانونی کٹائی کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔

 

ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان خیبرپختونخوا نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جنگلات کی تباہی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ صوبے کے قدرتی وسائل اور جنگلات کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔

 

اس موقع پر اظہار الدین کا کہنا تھا کہ “آج ہم صرف درختوں کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے عدالت سے رجوع کر رہے ہیں۔”

 

واضح رہے کہ چند روز قبل خیبرپختونخوا کے اضلاع مالاکنڈ اور مردان کے مختلف پہاڑی علاقوں میں جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں وسیع رقبے پر پھیلے جنگلات، قیمتی درختوں اور جنگلی حیات کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ 

 

ماہرین کے مطابق جنگلات کی تباہی صوبے میں ماحولیاتی چیلنجز کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔