پشاور میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں خواجہ سرا کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی صوبیہ خان، جو “بیبو” کے نام سے معروف ہیں، کو خیبر پختونخوا کے محکمہ جیل خانہ جات میں بطور وارڈن تعینات کر دیا گیا ہے۔

 

 اس تقرری کے ساتھ وہ صوبے کے اس حساس اور نظم و ضبط کے حامل ادارے میں خدمات انجام دینے والی پہلی خواجہ سرا بن گئی ہیں۔

 

یہ تقرری نہ صرف ایک انتظامی فیصلہ ہے بلکہ اس بات کی واضح عکاسی بھی کرتی ہے کہ ریاستی ادارے معاشرے کے پسماندہ طبقات کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: نشے کے استعمال کا کیس: محمد نواز کے خلاف پی سی بی کا ایکشن

 

 پاکستان میں خواجہ سرا افراد کو طویل عرصے سے سماجی امتیاز، معاشی مشکلات اور باعزت روزگار کے محدود مواقع کا سامنا رہا ہے، ایسے میں صوبیہ خان کی یہ کامیابی ایک مثبت اور حوصلہ افزا تبدیلی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

 

صوبیہ خان کی تعیناتی کو ماہرین ایک سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ادارے مساوی مواقع فراہم کریں تو ہر فرد اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکتا ہے۔ یہ پیش رفت اس سوچ کو بھی تقویت دیتی ہے کہ کسی بھی فرد کی قابلیت، محنت اور پیشہ ورانہ اہلیت کو اس کی شناخت پر فوقیت دی جانی چاہیے۔

 

آل آرٹسٹس ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کی صدر سعیدہ خان نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے صوبائی حکومت، بالخصوص وزیر اعلیٰ، سیکرٹری داخلہ اور محکمہ جیل خانہ جات کے حکام کی کاوشوں کو سراہا۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف نمائندگی کے ایک اہم خلا کو پُر کرے گا بلکہ مستقبل میں مزید مثبت اور جامع پالیسی سازی کی بنیاد بھی بنے گا۔

 

سماجی حلقوں میں بھی اس تقرری کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

 مبصرین کے مطابق اس اقدام سے خواجہ سرا کمیونٹی اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا، معاشرتی رویوں میں بہتری آئے گی اور ایک زیادہ ہم آہنگ اور شمولیتی معاشرے کی تشکیل میں مدد ملے گی۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبیہ خان کی بطور جیل وارڈن تعیناتی ایک نئے دور کا آغاز ہے، جو اس پیغام کو اجاگر کرتی ہے کہ انصاف، برابری اور میرٹ کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے ہی معاشرے کو مضبوط اور متوازن بنا سکتے ہیں۔