شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور کے ملازمین نے طویل عرصے سے ترقیوں سے محرومی کے خلاف احتجاج تیز کر دیا ہے اور اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یونیورسٹی کی ڈپٹی رجسٹرار سمیرا طارق نے پشاور پریس کلب میں اپنے ساتھی ملازمین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 2005 میں یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے آج تک کسی بھی ملازم کو ترقی نہیں دی گئی۔
ان کے مطابق جب بھی ترقیوں کے لیے آواز اٹھائی گئی، انتظامیہ نے مختلف حیلوں بہانوں سے معاملہ ٹال دیا۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کو سیاست میں فعال کردار کے لیے موقع فراہم کیا جائے، مولانا فضل الرحمان
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پریس کانفرنس کے بعد ملازمین کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں ممکنہ تبادلے یا مزید نظراندازی شامل ہے۔
سمیرا طارق نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایسے ملازمین بھی موجود ہیں جو 20 سے 26 سال سے ایک ہی گریڈ میں کام کر رہے ہیں، جو انتظامی نااہلی کی واضح مثال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سالوں سے ملازمین اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں، تاہم انتظامیہ کی جانب سے کوئی سنجیدہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی دینا انتظامیہ کی ذمہ داری اور ملازمین کا بنیادی حق ہے، اور ان کا مطالبہ ہرگز غیر قانونی نہیں۔
سمیرا طارق نے صوبائی حکومت سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور وزیر ہائیر ایجوکیشن میِنا خان آفریدی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری نوٹس لے کر ملازمین کو ان کا حق دلائیں اور آئندہ کے لیے شفاف اور خودکار ترقی کا نظام وضع کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تین روز سے یونیورسٹی میں ملازمین احتجاج کر رہے ہیں اور یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔
