جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو رہا کر کے انہیں دوبارہ سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے اور اگر حالات نہ سنبھلے تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ریاستوں کو امریکی فوجی اڈوں کے اثرات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، جبکہ پاکستان ثالثی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سوات زو کی وائرل ویڈیو: ریچھ نگران عملے کے اہلکار کے پیچھے کیوں بھاگا؟ اصل حقیقت سامنے آ گئی
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال جوں کی توں رہی تو دیگر عالمی طاقتیں بھی اس تنازع میں شامل ہو سکتی ہیں، جس سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کو مثبت پیشرفت قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبہ عمران خان کے دور میں سست روی کا شکار ہوا اور تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔
انہوں نے پالیسیوں میں تسلسل اور بہتری کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ موجودہ حکمرانوں کا اقتدار دیرپا نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تحریک انصاف کے ساتھ ہونے والے رابطے کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
دینی مدارس کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے دور سے لے کر تحریک انصاف اور موجودہ حکومت تک پالیسیوں میں خاص فرق نہیں آیا، مدارس کی رجسٹریشن اور بینک اکاؤنٹس کھولنے جیسے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔
