سوات کے چڑیا گھر سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کرتے ہوئے عوامی بحث کو جنم دیا ہے۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ریچھ نگران عملے کے ایک اہلکار کے پیچھے دوڑ رہا ہے، جبکہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتا نظر آتا ہے۔

 

حیرت انگیز طور پر اسی ویڈیو میں موجود دوسرا ریچھ اور نگران عملے کا ایک اور اہلکار اس صورتحال سے غیر متاثر دکھائی دیتے ہیں، جس نے واقعے کی نوعیت پر مزید سوالات اٹھا دیے۔ اسی دوران نگران عملے کا دوسرا اہلکار ریچھ کی توجہ ہٹانے کے لیے اسے ڈنڈے یا پائپ نما چیز سے مارتا بھی دکھائی دیتا ہے۔

 

 

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چڑیا گھر میں جانوروں کو مناسب خوراک نہیں دی جاتی، جس کے باعث وہ جارحانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔

 

 ان کے مطابق بہتر خوراک اور دیکھ بھال ایسے واقعات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

 

تاہم ماہرین اس معاملے کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ اینیمل سائنس کے ماہر ڈاکٹر حماد (فرضی نام) کے مطابق جنگلی اور گھریلو جانوروں کے رویوں میں بنیادی فرق ہوتا ہے، اور جنگلی جانوروں کو سنبھالنے کے لیے تربیت، مؤثر انتظام اور ان کے مزاج کی درست سمجھ انتہائی ضروری ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی جنگلی جانور، خصوصاً ریچھ کو مناسب خوراک نہ ملے تو وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس حالت میں وہ سامنے والے کو پہچاننے کی صلاحیت بھی کھو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں کسی پر بھی حملہ ممکن ہے۔ 

 

ان کے مطابق وائرل ویڈیو میں ممکنہ طور پر نگران عملے کے اہلکار کے ہاتھ میں گوشت، بریڈ یا اس کا شاپر موجود تھا، اور چونکہ ریچھ خوراک کا منتظر تھا، اس لیے وہ اسی شخص کے پیچھے بھاگا جبکہ دوسرے کو نظر انداز کیا۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریچھ کو ڈنڈے سے مارنا غیر مناسب عمل ہے، کیونکہ اس سے جانور مزید خوفزدہ اور جارحانہ ہو سکتا ہے۔

 

 

 ان کے مطابق ویڈیو میں موجود نگران عملے کے اہلکاروں کی تربیت مکمل نظر نہیں آتی۔ ایک جانب خوراک کو محفوظ طریقے سے دور کرنے کے بجائے قریب رکھنا غلطی تھی، جبکہ دوسری جانب جانور کو مارنا بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حفاظتی سامان، جیسے دستانے وغیرہ، استعمال نہ کرنا بھی ایک سنگین غفلت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

دوسری جانب واقعے میں موجود نگران عملے کے اہلکار مراد علی اس صورتحال کو مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس دن نگران عملے کے دو اہلکاروں میں سے ایک بیمار تھا، اس لیے وہ عملے کے دوسرے اہلکار کے ساتھ مدد کے لیے  پنجرے میں داخل ہوئے۔ 

 

ان کا کہنا ہے کہ وہ صفائی اور گندگی ہٹانے میں مصروف تھے کہ اچانک ریچھ نے ان پر حملہ کر دیا۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا اسمبلی: اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی تجویز، کیا وجوہات ہیں؟

 

مراد علی کے مطابق ریچھ ان سے مانوس نہیں تھا، جبکہ نگران عملے کے دوسرے اہلکار سے اس کی عادت تھی، اسی لیے اس نے صرف ان پر ردعمل دیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ چونکہ انہیں ریچھ کو سنبھالنے کا مکمل تجربہ نہیں تھا، اس لیے وہ گھبرا گئے اور بھاگنے لگے، جس کے بعد نگران عملے کے دوسرے اہلکار نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں بچایا۔

 

انتظامیہ کے مطابق ہر جانور کا مزاج مختلف ہوتا ہے اور وہ انسانوں کے چہروں کو پہچان کر اسی بنیاد پر ردعمل دیتے ہیں۔

 

ویٹرنری افسر سوات زو ڈاکٹر داؤد کے مطابق نگران عملہ معمول کے مطابق پنجرے کی صفائی اور جانور کی دیکھ بھال میں مصروف تھا کہ اچانک ایک ریچھ نے ایک اہلکار پر حملہ کر دیا، تاہم دیگر عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا۔

 

ان کے مطابق چڑیا گھر میں تقریباً 15 افراد پر مشتمل نگران عملہ موجود ہے، جنہیں باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے اور وقتاً فوقتاً ان کی ٹریننگ اپڈیٹ کی جاتی ہے تاکہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹ سکیں۔ ویڈیو میں ایک اہلکار کا ریچھ کو مارنا دراصل توجہ ہٹانے کی کوشش تھی تاکہ دوسرے شخص کو بچایا جا سکے۔ 

 

ان کے مطابق جانوروں کا رویہ ان کی عمر، صحت اور ذہنی دباؤ کی سطح پر بھی منحصر ہوتا ہے۔

 

دوسری جانب محکمہ جنگلی حیات کے حکام اس واقعے کو مختلف تناظر میں دیکھتے ہیں۔

 

 کنزرویٹر وائلڈ لائف و پراجیکٹ ڈائریکٹر عبدالغفور کے مطابق چڑیا گھر میں جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے واضح ایس او پیز موجود ہیں، جن پر تمام ویٹرنری افسران اور نگران عملہ عمل کرتا ہے۔ ان اصولوں میں جانوروں کی حفاظت، ان کے رویے کو سمجھنا، ان پر تشدد سے گریز اور مناسب خوراک کی فراہمی شامل ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اہلکار جان بوجھ کر جانوروں کو نقصان پہنچائے یا انہیں بھوکا رکھے تو اس کے خلاف انکوائری اور کارروائی کی جاتی ہے۔ اس واقعے میں ایک اہلکار بیمار تھا جبکہ دوسرا مدد کے لیے گیا تھا اور صفائی کا کام کر رہا تھا۔ چونکہ ریچھ اس سے مانوس نہیں تھا، اس لیے اس نے ردعمل دیا، جبکہ دوسرے اہلکار کو نقصان نہیں پہنچایا کیونکہ وہ اس سے واقف تھا۔

 

انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ ریچھ کو لکڑی کے ڈنڈے سے مارا گیا۔ ان کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی چیز دراصل ایک پائپ تھی اور اس کا مقصد انسانی جان بچانا تھا، تاہم اس انداز میں استعمال کرنا اصولی طور پر درست نہیں تھا۔ 

 

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ شاپر میں کوئی گوشت یا بریڈ موجود نہیں تھی۔ ریچھ کو عام طور پر پکا ہوا گوشت دیا جاتا ہے، جبکہ بریڈ اور شہد بھی اس کی خوراک کا حصہ ہیں۔

 

 ان کے مطابق ریچھ بھوکا نہیں تھا بلکہ اجنبی شخص کو دیکھ کر ردعمل دے رہا تھا۔

 

سوات زو کا قیام 2021 میں شروع ہوا اور جولائی 2025 میں اسے عوام کے لیے کھولا گیا۔ کانجو ٹاؤن شپ میں قائم اس چڑیا گھر میں اس وقت 90 سے زائد جانور اور سینکڑوں پرندے موجود ہیں، جن میں شیر، چیتے، بھیڑیے، لگڑ بگڑ، کالا ریچھ، زیبرا، جنگلی بلیاں، شتر مرغ اور متعدد نایاب جانور و پرندے شامل ہیں۔