خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں، مراعات اور الاؤنسز کو موجودہ معاشی حالات کے مقابلے میں کم قرار دیتے ہوئے ان میں اضافے کی سفارشات ایوان میں پیش کر دی ہیں۔

 

کمیٹی کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں، مراعات اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی بل جلد اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اس میں ممکنہ طور پر اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

 

دوسری جانب اپوزیشن نے ان تجاویز پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔

 

 جمعیت علمائے اسلام کے رکنِ اسمبلی اعجاز خان داودزئی نے کہا کہ اسپیکر سمیت عوامی نمائندوں کی تنخواہیں پہلے ہی مناسب سے زیادہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم یہاں کیا کر رہے ہیں کہ تنخواہیں اور مراعات بڑھائی جا رہی ہیں، جبکہ حلقوں میں ترقیاتی کام فنڈز کی کمی کے باعث رکے ہوئے ہیں۔”

 

یہ بھی پڑھیے: جلال خان کی درخواست نے سینیٹ انتخاب روک دیا، اصل معاملہ کیا ہے؟

 

ٹی این این کے پاس موجود دستاویز کے مطابق اس وقت اسپیکر کی ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ 50 ہزار روپے ہے جبکہ ڈپٹی اسپیکر کو 1 لاکھ 45 ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے۔ اسپیکر کو 20 ہزار روپے ماہانہ سمپچوئری الاؤنس اور 18 ہزار روپے میڈیکل الاؤنس بھی حاصل ہے۔

 

ڈپٹی اسپیکر کو 10 ہزار روپے ماہانہ سمپچوئری الاؤنس دیا جاتا ہے۔ اگر سرکاری رہائش دستیاب نہ ہو تو اسپیکر کو 70 ہزار روپے اور ڈپٹی اسپیکر کو 55 ہزار روپے ماہانہ ہاؤس رینٹ دیا جاتا ہے۔

 

قانون کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر سرکاری رہائش گاہ کے بھی حقدار ہیں، جبکہ فرنشنگ کے لیے 1 لاکھ روپے تک کی حد مقرر ہے۔ ہوائی سفر کے دوران اسپیکر کو بزنس کلاس اور ڈپٹی اسپیکر کو فرسٹ کلاس میں سفر کی سہولت حاصل ہے، جبکہ وہ اپنے ساتھ ایک اسٹاف ممبر بھی لے جا سکتے ہیں۔

 

دورانِ دورہ یومیہ الاؤنس بھی مقرر ہے جس کے تحت اسپیکر کو 2 ہزار روپے اور ڈپٹی اسپیکر کو 750 روپے دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں عہدیداران کے دفاتر اور گھروں کے لیے ٹیلی فون اور موبائل فون کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق ہوائی حادثے کی صورت میں اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کے ورثا کو 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

 

 قائمہ کمیٹی کی سفارشات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوابدیدی اور دیگر فنڈز کی منظوری کا اختیار فنانس کمیٹی کو دیا جائے، جو ضرورت کے مطابق ان الاؤنسز میں رد و بدل کر سکے گی۔

 

مزید سفارشات کے مطابق پاکستان کے اندر سرکاری دوروں پر وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جائے گا، جبکہ بیرونِ ملک دوروں کے دوران اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر اپنے ساتھ ایک کے بجائے دو پرائیویٹ ملازمین لے جا سکیں گے۔

 

حکومتی رکنِ اسمبلی عبدالسلام آفریدی نے مؤقف اختیار کیا کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں اور مراعات میں 2014 کے بعد اضافہ نہیں کیا گیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملک کی دیگر صوبائی اسمبلیوں میں پہلے ہی ان مراعات میں اضافہ کیا جا چکا ہے۔