ملک بھر میں نئی جامعات اور سب کیمپسز کے قیام پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ غیر منظور شدہ اداروں کی اسناد کو بھی ناقابلِ قبول قرار دے دیا گیا ہے۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اس اقدام کو اعلیٰ تعلیم کے معیار اور نظام کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
جاری ہدایات کے مطابق تحصیل کی سطح پر کسی بھی نئے ذیلی تعلیمی مرکز کے قیام، داخلوں کے اجرا، اشتہارات، بھرتیوں اور تعمیراتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ اس سلسلے میں جاری تمام منصوبے فوری طور پر روک دیے گئے ہیں۔ کمیشن کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کی منظوری کو غیر مؤثر تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: بنوں: شٹر ڈاؤن ہڑتال ختم، مظاہرین اور انتظامیہ کے درمیان کیا معاملات طے ہوئے؟
جامع جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعدد سب کیمپسز بنیادی سہولیات کی کمی، کمزور تعلیمی ڈھانچے، اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی قلت اور محدود وسائل جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ ایسے ادارے نہ صرف طلبہ کے معیارِ تعلیم کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ ملک کے تعلیمی وقار کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی غیر منظور شدہ ادارے یا مرکز کو اجازت نامہ، تعلیمی منظوری یا اسناد کی تصدیق فراہم نہیں کی جائے گی، جبکہ ایسے اداروں کی جاری کردہ اسناد بھی تسلیم نہیں ہوں گی، جس سے طلبہ کو مستقبل میں تعلیمی اور پیشہ ورانہ مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ جامعات کی انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں تعلیمی پروگرامز کی بندش، منظوری کی منسوخی اور ادارے کو غیر تسلیم شدہ قرار دینا شامل ہے۔ اس کی ذمہ داری متعلقہ سربراہان اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
