بنوں میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، دہشتگردی کے بڑھتے واقعات اور سڑکوں کی بندش کے خلاف پیر کے روز مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی دھرنا دیا گیا، جو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا۔

 

مذاکرات کے نتیجے میں انتظامیہ نے مظاہرین کے اہم مطالبات تسلیم کرتے ہوئے مرحلہ وار سڑکیں کھولنے کی یقین دہانی کرائی۔

 

 پہلے مرحلے میں شہر کے اطراف کی بند سڑکیں بحال کی جائیں گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں جمعہ خان روڈ، کوٹ براڑہ اور امندی کی سڑکیں کھولی جائیں گی۔ دیگر مطالبات پر بھی عملدرآمد کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

 

احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے، جہاں اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور دھماکے معمول بنتے جا رہے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: جنوبی وزیرستان: وانا میں ایس ڈی او واپڈا نور اسلم پر فائرنگ

 

 انہوں نے “گڈ اور بیڈ” کی پالیسی کے خاتمے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

 

 

مظاہرین نے یہ بھی کہا کہ ان کے مطالبات ایپکس کمیٹی کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں اور انہیں منظور بھی کیا گیا، تاہم ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ قومی جرگہ کے رہنما عبدالصمد خان کی گرفتاری پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

 

ہڑتال کے دوران شہر بھر کے کاروباری مراکز، مارکیٹیں، ٹرانسپورٹ اڈے اور نجی تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔

 

 شہر اور گردونواح سے ہزاروں افراد جلوسوں کی صورت میں سفید جھنڈے اٹھائے امن چوک میرانشاہ روڈ، پولیس لائن کے قریب دھرنا مقام پہنچے اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔

 

مشران نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر عملدرآمد نہ ہوا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، تاہم مذاکرات کی کامیابی کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

 

احتجاجی دھرنے میں سابق سینیٹر باز محمد خان، سابق سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم خان، ڈاکٹر پیر صاحب زمان، ایم این اے مولانا سید نسیم علی شاہ، ایم پی اے پختون یار خان، سابق صوبائی وزیر ملک شاہ محمد خان، سابق میئر عرفان درانی سمیت دیگر سیاسی و سماجی مشران نے شرکت کی اور خطاب کیا۔